وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس

لاہور(آن لائن)وزیرِ اعظم نے ملک میں کپاس کی پیداوار میں اضافے کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا،کپاس کی فصل کو منافع بخش بنانے کیلئے ٹاسک دے دیا،وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی ٹاسک فورس کی طرف سے جاری اصلاحات اور کپاس کی آئندہ فصل کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ طارق بشیر چیمہ، وفاقی وزیر تجارت سید نوید قمر، مشیرِ وزیرِ اعظم احد چیمہ، معاونِ خصوصی جہانزیب خان، وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی اور متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو کپاس کی متوقع فی مجموعی پیداوار کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے اس میں اضافے کیلئے تجاویز سے آگاہ کیا گیا، اجلاس کو کپاس کی سپورٹ پرائس کی تجاویز بھی پیش کی گئیں. وزیرِ اعظم نے کہا کہ کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے فوری اور طویل مدتی اقدامات پر ابھی سے عملدرآمد شروع کیا جائے، کپاس کی سپورٹ پرائس اعشاریوں، فی ایکڑ لاگت اور کسان کو ذیادہ سے ذیادہ منافع کو ذہن میں رکھ کر طے کی جائے گی، وزیرِ اعظم کو تحقیقی اداروں اور بیج کی سرٹیفیکشن پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے شفاف اور مؤثر سرٹیفیکشن کا طریقہ کار وضع کرنے اور صوبوں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنے کا کہا. وزیرِ اعظم نے جعلی پیسٹی سائیڈ/کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نبٹنے کی ہدایات دیں،وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایت کرتے ہوئے زرعی اجناس کی عوام تک فراہمی سمیت فوڈ چین کو بہتر بنانے کے لئے لیے دیگر درپیش مسائل کو جامع حکمت عملی کے تحت موثر طریقے سے حل کیا جائے،وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی زرعی پیداوار کو بہتر کر کے کے خوراک میں خودکفالت پاکستان کو بہت سے معاشی مسائل سے بچا سکتی ہے،حکومت کی طرف سے زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لئے شروع کی جانے والی زرعی اصلاحات پر کام جلد از جلد مکمل کیا جائے گا،وفاقی اور صوبائی سطح پر زرعی تحقیقی اداروں کو فعال بنایا جائے،انہوں نے کہا کہ افسوسناک امر ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک زرعی اجناس درآمد کرنا پڑ رہی ہیں،وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کپاس کے کاشتکاروں کو انکی فصل کی منافع نخش قیمت کی ادائیگی یقینی بنائے گی،وزیرِ اعظم نے جعلی کیڑے مار ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایات کر دیں،کسانوں کو جعلی کیڑے مار ادویات فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے،کاشتکاروں کو معیاری بیج کی فراہمی کیلئے سیڈ سرٹیفیکشن شفاف اور مؤثر بنائی جائے۔