پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کے زیر اثر آراوز و ڈی آراوز کی زیر نگرانی دوبارہ گنتی قبول نہیں ٗ حافظ نعیم الرحمن

کراچی(آن لائن)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کے زیر اثر آراوز اور ڈی آراوز کی زیر نگرانی دوبارہ گنتی کسی صورت قبول نہیں،دوبارہ گنتی الیکشن کمیشن کے زیر نگرانی اور اس کے عملے کے سامنے ہو،یوسی 6صفورہ ٹاؤن میں دوبارہ گنتی کے نام پر جماعت اسلامی کی جیت کو ہار میں تبدیل کردیا گیا،گنتی کے دوران سنگین بے ضابطگیاں کی گئیں،ووٹوں کے تھیلے پھٹے ہوئے نکلے، سندھ حکومت اور آراوز کی ملی بھگت اور چوری سامنے آگئی،گلشن حدید کی یوسی میں بھی ایسی ہی جعل سازی کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔الیکشن کمیشن آف پاکستان دوبارہ گنتی کے نام پر دھاندلی کا نوٹس لیں،حافظ نعیم الرحمن نے الیکشن کمیشن کو الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر اندر جماعت اسلامی کی چھینی گئی تمام نشستوں کا حق و انصاف اوردرست حقائق کی بنیاد پر فیصلہ اور ملتوی شدہ 11نشستوں کے انتخابی شیڈول کا اعلان نہیں کیا تو 10مارچ کو طویل دھرنا دیا جائے گا جو مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا،کراچی کے عوام نے جماعت اسلامی کو بھرپورمینڈیٹ دیا ہے،ہم ایک ایک ووٹ کا تحفظ کریں گے،صوبائی حکومت کی جانب سے آر اوز اور ڈی آر اوز کو نتائج تبدیل کروانے کے لیے ملازمت سے فارغ کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے اور دوبارہ گنتی کے نام پر نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،دوبارہ گنتی میں جماعت اسلامی کے علاوہ کسی بھی پارٹی کاووٹ مسترد نہیں ہوتا، ایسی کسی سازش کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا،کارکنان گھر گھر جاکر عوام سے رابطہ کریں اورچوکوں اور چوراہوں پر ہینڈ بلز تقسیم کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں بلدیاتی انتخابات کی دوبارہ گنتی میں ووٹوں کے تھیلے پھٹے ہوئے نکلنے،پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی چوری بے نقاب ہونے، بلدیاتی انتخابی عمل کے مکمل ناہونے، نتائج میں مسلسل تاخیر، انتخابی عملے کو ہراساں کر کے نتائج تبدیل کرنے اور ڈیجیٹل مردم شماری،توقعات وخدشات کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی کراچی منعم ظفرخان،نائب امیرکراچی راجاعارف سلطان،ڈپٹی سیکریٹری کراچی یونس بارائی،سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،ضلع شرقی کے نائب امیر نعیم اختر،نومنتخب چیئرمین یوسی 6صفورہ ٹاؤن محمد شاہد، وائس چیئرمین انور خان و دیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ جب تک حق و انصاف کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جائے گا ہم پیپلزپارٹی سے کوئی بات نہیں کریں گے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے عملے کے بارے میں معلومات حاصل کرے،ہم پوچھتے ہیں کہ جس امیدوار کا بھائی پولنگ افسر ہو تو انتخابات کیسے صاف وشفاف ہوں گے؟،ہم تمام دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کروارہے ہیں،ایسے بہت سے پریزائیڈنگ افسران ہم سے رابطے میں ہیں جن سے نتائج تبدیل کروانے کے لیے دوبارہ انگوٹھے لگوانے کی کوشش کی گئی ہے اورحکم نہ ماننے پر انہیں نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے وسائل پر قبضہ کرنے اور کراچی کی آبادی کو کم گننے کی ایک بار پھر سے سازش اور ڈیجیٹل مردم شماری کے نام پر کراچی کے عوام کے ساتھ سنگین مذاق کیا جارہا ہے،ماضی میں آرٹی ایس سسٹم کی طرح اب ڈیجیٹل مردم شماری کا سسٹم بھی بیٹھ گیا،سسٹم ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے رجسٹریشن کاعمل عوام کے لیے مشکل ہوگیا ہے، خدشہ ہے کہ ماضی کی طرح پھر سے ڈی جور واور ڈیفیکٹو کی اصطلاحات میں الجھا کر شہریوں کو درست شمار ہی نہیں کیا جائے گااوررجسٹریشن کا مرحلہ مکمل کرنے کے بعد مستقل پتے کی بنیاد پر شہریوں کو شمار کیا جائے گا۔ہم ادارہ شماریات سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آن لائن رجسٹریشن کی مدت کو مزید ایک ماہ کے لیے بڑھایا جائے اور جو جہاں رہتا ہے اس کو وہیں شمار کیا جائے.