بلاول کہتا ہے یہ اپنی جیب سے خرچہ کررہا ہے، سننے میں آیا ہے ڈھائی ارب روپے دوروں پر لاگت آئی ہے، علی زیدی

کراچی(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر و سابق وفاقی وزیر علی زیدی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے 9ارکان قومی اسمبلی نے سندھ ہائیکورٹ میں الیکشن کے التواء کے لئے درخواست دائر کی جس میں ہم نے بتایا کہ ہمیں اسپیکر کی جانب سے کہا گیا کہ استعفیٰ تب تک قبول نہیں ہوگا جب تک خود پیش نہیں ہونگے۔ 11اپریل کو دئیے ہوئے استعفے جس نے منظور کیے وہ خود16اپریل کو اسپیکر بنے تھے۔ پہلے دئیے ہوئے استعفے وہ کیسے منظور کر سکتے ہیں۔ جب اپوزیشن لیڈر بنانے کی بات آئی تو استعفے منظور کرلئے گئے۔ ہم نے اپنی پنجاب اور کے پی کی حکومتیں قربان کیں تاکہ الیکشن ہو ں اسی طرح ہم قومی اسمبلی کا بھی الیکشن چاہتے ہیں۔ دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی حکومت عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائی جائے تو دوسری حکومت مینڈیٹ لے کر آتی ہے۔پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہماری درخواستوں پر اسٹے آرڈر جاری کردیے۔ سندھ ہائیکورٹ میں ہمارے ارکان کے ساتھ جو رویہ اپنایا گیا وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے پٹیشن منظور کرتے ہوئے ہمیں 21مارچ کی تاریخ دی، جبکہ ضمنی انتخابات 16مارچ کو ہیں۔ اسکے بعد ہمارے وکلاء نے ارجنٹ پٹیشن دائر کی تو معزز جسٹس نے کہا کہ میں کیس 15تاریخ کو سنوں گا۔ 15تاریخ تک بیلٹ پیپرز چھپ جائیں گے، حکومت کا خرچہ ہوجائے گا۔ الیکشن کمیشن نے پہلے ہی پنجاب اور کے پی میں الیکشن کروانے کے لئے30ارب روپے مانگے ہیں۔ ہمارے وکلاء نے بحث کی تو 7تاریخ سماعت کے لئے مقرر کی گئی۔اگر انہیں درخواست نہیں سننی تو مسترد کریں تاکہ ہم سپریم کورٹ جائیں۔ جج صاحب ہماری بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے.