موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت کو بہت نقصان پہنچا ہے،احسن اقبال

فیصل آباد(آن لائن)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ اگرچہ ملک مختلف زرعی اشیا کی پیداوار میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتاہے لیکن بد قسمتی سے زرعی چیلنجز اور روایتی طریق کاشت نے ہماری فی ایکڑ پیداوار کو محدود تر کر دیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت کو بہت نقصان پہنچا ہے اور ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کو متعارف کروانا ہو گا۔ ہماری زرعی اجناس برآمد کے لیے موزوں عالمی ریگولیٹری فریم ورک سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ کیڑے مار ادویات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے مضر صحت زرعی پھل اور سبزیاں اپنی افادیت کھو رہی ہیں، پاکستان کا شمار دنیا کا پانچواں بڑا دودھ پیدا کرنے والا ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ اہم اپنی ڈیری پراڈکٹ میں ویلیو ایڈیشن کو یقینی بناتے ہوئے اربوں روپے کا زرِ مبادلہ کما سکتے ہیں۔زراعت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ زرعی شعبے کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے تعمیر نو سے نہ صرف غذائی خود کفالت کے اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تخفیف غربت اور برآمدی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کو برصغیر کی اولین اور قدیم زرعی دانش گاہ ہونے کی بدولت ٹھوس تحقیقات، کمیونٹی سروس اور کاشتکاروں کے مسائل کو حل کرتے ہوئے زرعی شعبے میں اصطلاحات کے لئے بھر پور کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مرکز برائے اعلیٰ تعلیم آڈیٹوریم میں ڈینز اور ڈائریکٹر سے خطاب کے دوران کیا۔ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے زرعی مسائل کے بارے میں بریفنگ دی۔احسن اقبال نے کہا کہ علم پر مبنی معیشت کے حصول کے لیے جدید تحقیقات کو کاشتکاروں، اسٹیک ہولڈرز اور صنعت تک پہنچانا نا گزیرہے۔ انہوں نے کہا حکومت یونیورسٹیوں کے مابین تحقیق کا مقابلہ کرنے عزم رکھتی ہے تا کہ ٹھوس تحقیقات کو فروغ دیتے ہوئے کاشتکاروں انڈسٹری اور معاشرے کے مسائل پر قابو پایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام نیشنل لیگ آف یونیورسٹی اور پریمیئر لیگ آف یونیورسٹیز کے قیام پر بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ پریمیئر لیگ کے تحت، پاکستان کی اچھی کارکردگی دکھانے والی یونیورسٹیوں کو دنیا کی بہترین 100 جامعات کی فہرست میں مقام حاصل کرنے اور علمی معیشت کے لیے ایک محرک قوت بنانے کے لئے منتخب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آبادایم آر ایل لیب کے قیام کے لئے تجویز تیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کا شعبہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جن میں پانی کی کمی، ٹیکنالوجی، کم فی ایکڑ پیداوار، پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلیاں وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بائیوٹیک، ڈیٹا سائنٹسٹ اور اختراعات، جدید رجحانات کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، انہوں نے ملکی سطح پر فلوری کلچر کو بھی فروغ دینے پر زور دیا۔