کراچی(آن لائن)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکمران طبقے کی عیاشیوں،شاہ خرچیوں اور لوٹ مار کا سارابوجھ غریب عوام پر ڈالنے کے بجائے اربوں روپے کی مراعات حاصل کرنے والے طبقے اور جاگیرداروں پر ٹیکس لگایا جائے،بھاری بھرکم وفاقی کابینہ،ایوان صدر،وزیر اعظم،وزرائے اعلیٰ اور گورنر ہاؤسز کے اخراجات کم کیے ہیں،موجودہ حکومت بھی مراعات یافتہ طبقات اور جاگیرداروں کا اتحاد ہے جو اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور عوام پر گیس اور پیٹرول بم گراتے ہیں،ساری قربانیاں اور ٹیکس عوام دیں اور حکمران شاہ خرچیاں کریں ایسا ہرگز قبول نہیں،امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی قیادت میں جماعت اسلامی ان حکمرانوں،مراعات یافتہ طبقات کے گٹھ جوڑ،آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر مہنگائی میں اضافے کے خلاف تحریک چلارہی ہے،ا س کے لیے طویل جدوجہد اور مزاحمت کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو نیو ایم اے جناح روڈ پر پیٹرولیممصنوعات کی قیمتوں میں اضافے 170ارب روپے کے نئے ٹیکس و مہنگائی کے سونامی اور کراچی میں بلدیاتی انتخابی عمل کے تاحال مکمل نہ ہونے کے خلاف ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مظاہرے سے نائب امراء جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی اور مسلم پرویز نے بھی خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو اس کی حقیقی قیادت سے محروم نہ کیا جائے،کراچی میں بلدیاتی انتخابی عمل کو فی الفور مکمل کیا جائے،ملتوی شدہ 11نشستوں پر انتخابی شیڈول جاری کیا جائے،الیکشن کمیشن میں زیر سماعت نشستوں کے تنازعات کے نتائج حق اور انصاف کی بنیاد پر فوری جاری کیے جائیں،جماعت اسلامی کے منتخب عوامی نمائندے اور میئر کراچی کو ایک بار پھر تعمیر و ترقی کی راہ پر ڈالیں گے۔حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ ملک میں مسلط حکمران ٹولہ نسل در نسل ملک اور عوام کو کھوکھلا کررہا ہے،یہ ٹولہ اپنی اولادوں کو تو بیرون ملک سے تعلیم دلواتے ہیں لیکن ملک میں جہالت پھیلاتے ہیں اور عوام کو تعلیم،صحت،روزگار، ٹرانسپورٹ سمیت دیگر سہولیات سے محروم کرتے ہیں،ان ظالموں کو احساس تک نہیں کہ 272روپے لیٹر پیٹرول لینے والے طالب علم اور نوجوان اپنے روزانہ کے تعلیمی اور ملازمت کے لیے سفری اخراجات کس طرح پورے کریں گے کیونکہ اس مراعات یافتہ طبقے کو تو پیٹرول مفت ملتا ہے،یہ طبقہ نہ تو عوا م کے مسائل کاادراک رکھتا ہے اور نہ ان کے حل کرنے کی صلاحیت،ایک اندازے کے مطابق 2لاکھ گاڑیاں فوجی و سول بیوروکریسی کے افسران اور حکمرانوں کے ذاتی استعمال میں ہیں جن کو 400لیٹر اضافی پیٹرول ماہانہ ملتا ہے جس کے اخراجات تقریبا300ارب روپے سالانہ تک بنتے ہیں،آئی ایم ایف کے مطابق 2400ارب روپے کے ایسے ٹیکس ہیں جسے مراعات یافتہ طبقے کو استثناءدیا گیا ہے اور 662ارب روپے کی کے الیکٹرک نادہندہ ہے،نواز لیگ، پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی کوئی بھی حکومت کے الیکٹرک سے رقم وصول کرنے کے لیے کچھ نہیں کرتی اور نہ مراعات یافتہ طبقے سے ایسے ٹیکس کا استثناء ختم کرتی ہے لیکن بجلی، گیس،پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے آئی ایم ایف کے حکم کو تسلیم کرلیتی ہے۔کے الیکٹرک کو اہل کراچی سے لوٹ مار کرنے کے لیے دوبارہ لائسنس دینے کی تیاری کی جارہی ہے اور وفاقی حکومت اور نیپرا اس میں سہولت کار بنے ہوئے ہیں.
Load/Hide Comments



