ارشد شریف کیس، ملک اور بیرون ملک کچھ غلطیاں کی گئی ہیں، سپریم کورٹ

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطاء بندیال نے ارشد شریف قتل از خود نوٹس کیس کی سماعت کے موقع پر ریمارکس دیئے ہیں کہ دیکھنا ہو گا کہ ارشد شریف کے ملک چھوڑ کر کینیا جانے ک بعدکون فنانس کر رہا تھا،ارشد شریف کے سامنے کون سا مواد رکھا گیا جس کے سبب انھیں پاکستان چھوڑنا پڑا،ارشد شریف کیخلاف پاکستان میں متعدد مقدمات درج کیے گئے اس کے پیچھے کون تھا،ساری کڑیاں ملائیں گے تو خود ہی حقائق سامنے آجائیں گے،ارشد شریف سے کون جان چھڑانا چاہتا تھا،کینیا ایک خودمختار ملک ہے ہمیں کسی پر الزام نہیں لگانا چاہیے،دیکھنا ہے کہ کیا خصوصی جے آئی ٹی نے کینیا اور متحدہ عرب امارات میں درست تفتیش کی ہے؟ کیا سپیشل جے آئی ٹی تفتیش کے لیے تیار تھی،ارشد شریف قتل کیس میں پاکستان اور بیرون ملک کچھ غلطیاں کی گئی ہیں،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کیوں اور کس کے کہنے پر جاری کی گئی؟ اس رپورٹ کے جاری کرنے سے ملزمان ہوشیار ہو گئے،کیا سپیشل جے آئی ٹی نے فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ اور انکوائری میں سامنے آنے والے تمام نکات پر تفتیش کی ہے؟ سپیشل جے آئی ٹی نے کون کون سی غیر ملکیایجنسیوں کا تعاون مانگا ہے؟ کینیا سے رابطہ کرنے اور وہاں جانے کے درمیان گڑبڑ ہوئی ہے،اس کا پتہ لگانا فارن آفس کی ذمہ داری ہے،عدالت عظمیٰ میں معاملہ کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے کی۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ ارشد شریف قتل کیس کی دو الگ الگ رپورٹس عدالت میں جمع کرائی گئی ہیں، ایک رپورٹ دفتر خارجہ اور دوسری خصوصی جے آئی ٹی کی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو ارشد شریف قتل کیس میں اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کینیا حکام نے ابھی تک اسپیشل جے آئی ٹی کو جائے وقوعہ تک رسائی نہیں دی، کینیا نے اب تک ہمیں صرف باہمی قانونی معاونت دی ہے۔ کینین حکام کے مطابق ارشد شریف پر گولیاں چلانے والے کینیا کے دو پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے،ایڈیشنل آٹارنی جنرل نے یہ بھی بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں جے آئی ٹی کو کسی سے پوچھ گچھ کی اجازت نہیں ہے،ارشد شریف قتل کیس کے اہم کردار خرم اور وقار کے ریڈ وارنٹ کے لیے انٹرپول کو لکھ دیاہے۔خصوصی جے آئی ٹی کے سربراہ ڈی آئی جی اویس نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں ارشد شریف کے قتل سے متعلق ابھی تک کوئی مواد نہیں ملا اور کینیا کے حکام ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔چیف جسٹص آ ف پاکستان نے اس موقع پر کہا کہ ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں ارشد شریف قتل کیس میں کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں مکمل رپورٹ دیں، کینیا میں وکیل کریں اپنے قانونی حقوق کی معلومات لیں، جو کرنا ہے کریں لیکن حقائق تک پہنچیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت مارچ 2023 تک ملتوی کرتے ہوئے خصوصی جے آئی ٹی سے دو ہفتوں میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔