اسلام آباد ہائی کورٹ:الیکٹرانک میڈیا قانون سازی کیلئے وزارت اطلاعات اور قانون کو 10 فروری تک مہلت

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکٹرانک میڈیا قانون ساز ی کیلئے وزارت اطلاعات اور قانون کو10 فروری جمعہ تک مہلت دیدی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے الیکٹرانک میڈیا کیلئے قانون سازی کی ہائیکورٹ جرنلسٹ ایسوسی ایشن اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔سیکرٹری اطلاعات شاہیرہ شاہد اور سیکرٹری قانون عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت اطلاعات اور وزارت قانون کے رویے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ جمعے تک کا وقت ہے جو کر سکتے ہیں تو کریں ورنہ فیصلہ دے دوں گا،آپ اگر نہیں کر سکتے تو وزیرقانون اور وزیراطلاعات کو طلب کر لیتا ہوں،اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات نے عدالت کو بتایا کہ عدالت ہدایات دے گی تو ہم ان کی مطابق کام کر لیں گے جس پر عدالت نے کہا کہ وزارت قانون اور وزارت اطلاعات ختم کر دیں اگر سارا کام عدالتوں نے کرنا ہے پھر کہا جاتا ہے کہ عدالتیں ایگزیکٹو کے کام میں مداخلت کرتی ہیں اسکی وجہ یہی ہے کہ ایگزیکٹو اپنا کام کرتا ہی نہیں آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ عدالت ہدایت دے گی تو ہی کام کریں گے؟ایسا ہے تو پھر میں نے جو لکھنا ہوا لکھ دونگا پھر کوئی شکوہ نہ کرے جس پر سیکرٹری اطلاعات نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ کارروائی جاری ہے جس پر عدالت نے کہا کہ آج وزارت اطلاعات کو اطلاع دینے کیلئے ایک نئی وزارت قائم کرنے کا حکم دے دیتا ہوں میڈیا کو چوتھا ستون کہا جا رہاہے اورحکومت صحافیوں کو بنیادی حقوق تک دینے کو تیار نہیں؟اسٹیک ہولڈر یہ صحافی ہیں جن کو تنخواہ نہ ملے تو لاکھ لاکھ روپے کے پیچھے ٹریبونل جاتے ہیں الیکٹرانک میڈیا کے صحافیوں کیلئے تو ایسا فورم بھی موجود نہیں تھا اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ ہمیں تھوڑا وقت دے دیں، ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کرونگا جس پر عدالت نے کہا کہ میں 2031 میں ریٹائر ہو رہا ہوں تب کی تاریخ دے دوں؟پارلیمنٹ اور ایگزیکٹو اپنا کام کریں تو یہ چیزیں ادھر آئیں ہی نہیں اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات نے عدالت کو بتایا کہ الیکٹرانک میڈیا کو پیمرا دیکھتا ہے،کونسل آف کمپلینٹس کو اختیار دیا ہے کونسل آف کمپلینٹس کو اختیار دینے کی کابینہ سے منظوری لے لی ہے جس پر عدالت نے کہا کہ وہ آپ لوگ غلط کر رہے ہیں آپ تو بالکل ہی ایک اور سائیڈ پر چلے گئے ہیں آپ نے کابینہ کو بھی مس گائیڈ کیا ہیایسا نہیں کرنا چاہیے تھاالیکٹرانک میڈیا کیلئے قانون سازی کر کے ایک الگ سے فورم بنا دینا چاہیے یہ کیسز تو عدالتوں میں آنے ہی نہیں چاہئیں حکومت کو یہ کام خود کر دینے چاہئیں دو چار پانچ لاکھ روپے کیلئے ورکرز دھکے کھا رہے ہوتے ہیں ہمارا سسٹم کیسے کام کرتا ہے سب کو معلوم ہے، ورکرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر آپ اس حوالے سے کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے تو واضح بتا دیں .