اسلام آباد (آن لائن) حکام وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے عمران خان سے معاہدے پر دستخط لینے کی کوئی شرط عائد نہیں کی، آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات 9 مئی تک طے کرلئے جائیں گے، فروری سے میڈیم ٹرن بجٹری فریم ورک پر بات چیت شروع ہوگی، توانائی شعبے میں کسان پیکج، بلوچستان، ٹیوب ویل، اے جے کے پر سبسڈی برقرار رکھنے پر تیار۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اقتصادی ٹیم اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان تفصیلی مذاکرات ہوئے، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں کئی معاملات پر پیشرفت ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ توانائی شعبے میں تیکنیکی مذاکرات پیر تک جاری رہیں گے، ایکسپورٹرز کو توانائی شعبے کی سبسڈی ختم ہوگی۔ محصولات میں شارٹ فال پر اختلافات برقرار ہیں، آئی ایم ایف سمجھتا ہے کہ محصولات کا شارٹ فال 480 ارب روپے ہے۔جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق شارٹ فال 400 ارب سے 450 ارب روپے ہے۔ محصولات کے شارٹ فال کیلئے اقدامات بھی تجویز کئے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف توانائی شعبے میں کسان پیکج، بلوچستان، ٹیوب ویل، اے جے کے پر سبسڈی برقرار رکھنے پر تیار ہے۔ حکام وزارت خزانہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی اور اخراجات میں کٹوتی کی جائے گی، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی 17سے 18 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔
Load/Hide Comments



