پاکستان سے محصولات کا ہدف بڑھائے، ٹیکسٹائل کے شعبے کو دی گئی 110 ارب روپے کی سبسڈی بھی واپس لے،آئی ایم ایف

اسلام آباد(آن لائن)آ ئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ رواں مالی سال ایف بی آر 8300 ارب روپے محصولات کے اکھٹے کرے، ایف بی آر کو رواں مالی سال 214 ارب روپے کا شارٹ فال کا سامنا ہے۔ معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان تکنیکی مذاکرات کے دوسرے روز آئی ایم ایف نے رواں مالی سال کے محصولات کا ہدف بڑھانے کا مطالبہ کردیا، آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ رواں مالی سال ایف بی آر 8300 ارب روپے محصولات کے اکھٹے کرے، ایف بی آر کو رواں مالی سال 214 ارب روپے کا شارٹ فال کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کے دورے پر نویں جائزے کیلئے آئے ہوئے آئی ایم ایف مشن نے پاکستان سے محصولات کا ہدف بڑھانیکا مطالبہ کردیا، ٹیکسٹائل کے شعبے کو دی گئی 110 ارب روپے کی سبسڈی بھی واپس لینے کا مطالبہ سامنے آگیا، ایف بی آر کے آئی ایم ایف کے ساتھ ٹیکنیکل مذاکرات میں یہ مطالبے آئی ایم ایف کی جانب سے کئے گئے، رواں ماہ کے دوران آرڈیننس کے ذریعے منی بجٹ لانے کی معاملے پر بھی بات چیت ہوئی، آئی ایم ایف نے 600 سے 800 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا ہے، پاکستان کو ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 1 فیصد بڑھانی ہوگی،آئی ایم ایف نے ٹیکس ہدف 8300 ارب تک مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے، پاکستان 7470 ارب روپے کا ٹیکس ہدف جمع کرنے کے لیے پرعزم ہے، آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ سیلز ٹیکس کی مراعات مرحلہ وار ختم کی جائیں، آئی ایم ایف کا پٹرول پر فوری سیلز ٹیکس 17 فیصد عائد کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔