اسلام آباد(آن لائن) پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان الزام تراشی پر یقین نہیں رکھتا کیونکہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کیلئے مشترکہ خطرہ ہے، کسی بھی ملک کہ سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، پاکستانی لڑکی کے بھارت جانے کا معاملہ پر بھارت سے قونصلر رسائی مانگ لی ہے، بڑھتے ہوئے ا سلامو فوبیا پر شدید تشویش ہے۔ ہفتہ ار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہر اہ بلوچ نے کہا کہ پشاور دہشت گرد حملے کی تحقیقات حکومت نے شروع کی ہیں،دہشتگرد حملے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں،پاکستان عبوری افغان حکومت سے تعاون کی توقع کرتا ہے،دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کے لیے مشترکہ خطرہ ہے، امید کرتے ہیں کہ کوئی ملک اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا، پاکستان الزام تراشی پر یقین نہیں رکھتا کیونکہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان دونوں کی مشترکہ دشمن ہے،پاکستان توقع رکھتا ہے کہ کابل بین الاقوامی برادری اور پاکستان سے اپنے وعدے پورے کرے گا، پاکستان کئی برس سے افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، پڑوسی مشکل میں ہوں تو مدد کرنا ہماری ذمہ داری ہے،پاکستان یو این ایچ سی آر،افغان حکام اور دیگر تنظیموں سے مل کر پناہ گزنیوں کی واپسی کے لئے کام کر رہا ہے انسانی حقوق کارکن خرم پرویز کی گرفتاری پر بین الاقوامی تنظیموں کو بھی تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی لڑکی کے بھارت جانے کا معاملہ پر پاکستان نے بھارت سے قونصلر رسائی مانگ لی ہے اورپاکستان کو بھارتی حکام کے جواب کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری امریکہ کے اہم دورے پر ہیں، بلاول بھٹو زرداری نے روسی وزیر خارجہ کی دعوت پر روس کا اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی، ملاقات میں عالمی اور علاقائی امور سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا،پاکستان اور روس کے وزرائے خارجہ نے تجارت سمیت تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیح تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، روس سمیت تمام ممالک کے ساتھ مثبت بات چیت جاری رہنے چاہیے توقع ہے کہ روس سے دوطرفہ تعلقات بشمول تجارت کا معاملہ آگے بڑھے گا، ایس سی او کا ایجنڈا وسیع البنیاد ہے، پاک روس وزرائے خارجہ ملاقات میں ایس سی او ایجنڈا کے حوالے سے تفصیلی بات ہوئی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حناربانی کھر نے جنیوا میں انسانی حقوق کی کانفرنس میں شرکت کی اور انہوں نے انسانی حقوق کیلئے کیئے جانیوالے پاکستانی اقدامات سے آگاہ کیاجبکہ جنیوا میں انسانی حقوق کے حوالے سے پاکستان کی جائزہ رپورٹ بھی پیش کی، وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر سری لنکا کا بھی دورہ کریں گی وہ اپنے دورے کے دوران سری لنکن حکام سے ملاقاتیں کریں گے.
Load/Hide Comments



