اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ شاہد خاقان نے پارٹی کے سئنیر نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ مریم نواز کو اسپیس دینے کے لیے دیا، میر ا کیا ہوا آئی ایم ایف سے معاہدہ اسحاق ڈار نے آکر توڑدیا، ہم تو اپنے ہی خنجر سے زخمی ہوئے ہیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے 3سال پہلے نوازشریف سے اس بارے میں بات کی تھی اور یہ کہا تھا کہ مریم نواز کے ہاتھ میں پارٹی کی کنجی دی گئی تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔شاہد خاقان عباسی کہہ چکے تھے کہ مریم نواز کوعہد ہ ملاتو وہ اور دیگر سینئر رہنما پیچھے ہٹ جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی پارٹی میں سینئر سیاستدان ہیں،اب مریم نواز سینئر ہوگئیں،شاہد خاقان عباسی نے خاموشی بہتر سمجھی اور ایک طرف ہوگئے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وہ پارٹی کے ساتھ رہیں گے۔ اس حوالے سے افواہیں چل رہی ہیں جن میں صداقت نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ میں نے آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیااسحاق ڈار نے آکر توڑدیا۔یہ تو ایسا ہے کہ ہم اپنے ہی خنجر سے زخمی ہوئے ہوں۔پاکستان میں جو بھی وزیرخزانہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کرتاہے دوسرا آکر توڑ دیتاہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ کریڈایبلٹی دیکھنی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف گئے تو پیپلزپارٹی الزام لگاتی رہی،ن لیگ آئی تو اس کا بھی الزام یہی تھا۔وزرا،بیوروکریٹ اچھے ہوتے ہیں طریقہ حکمرانی درست نہیں ہوتا۔وزرا کوعہدوں سے ہٹانا پارٹی کے قائد کا صوابدید ہوتاہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس آئی ایم ایف کے سواکوئی راستہ نہیں۔ہمارے قرض کی ادائیگی آئی ایم ایف کے ذریعے ہی ممکن ہے۔آئی ایم ایف کے پیسوں کی قسط اہم نہیں،اس کے پروگرام میں رہنا اہم ہے۔ہم پر 30سال سے قرضوں کا بوجھ ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف نے سخت شرائط رکھی ہیں،بجلی کی قیمتیں بڑھانی ہوں گی۔بجلی کی قیمت بڑھانیکی شرط حکومت کے لیے پریشان کن ہے۔افراط زر کی وجہ سے مہنگائی کم ہونے کے امکانا ت نظر نہیں آرہے۔45سال بعدبھی ہم آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ قطر،یواے ای،یواین،ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی بات کی۔پاکستان قرض لے کر قرض ادا کرتاہے جو پرانی روش ہے۔پاکستان کے پاس معیشت چلانے کا بہتر پلان ہونا چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ ایمرجنگ پاکستان سمینار کا مقصد عوام میں آگاہی پید اکرنا ہے۔ایوانوں میں عوامی مسائل پر بات چیت نہیں ہوتی۔30سال سے ہماری طرز حکمرانی بہت بری ہے۔خواتین،بچے،معیشت،تعلیم،صحت،مہنگائی،بیروزگار ی پر کوئی بات نہیں کرتا۔
Load/Hide Comments



