اسلام آباد/پشاور(آن لائن) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بات پر سب متفق ہیں کہ باچا خان اور ولی خان جیسے قائدین صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔لاہور میں دوران تعلیم احساس ہوا کہ ہمارے قائدین کو یہاں پر غدار سمجھا جاتا ہے۔آج بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ ہم پاکستان کے وفادار اور خیرخواہ ہیں۔ ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم پچھلے پچھتر سالوں سے پاکستان کے شہری ہیں لیکن ہزاروں سال سے پختون بھی ہیں۔ اگر پختون ہونے کی وجہ سے ہم سے تفریق ہوگی تو ایسے انصاف کو بالکل نہیں مانتے۔ یہ آج پوری پختون قوم کا مقدمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پاکستان میں جمہوری نظام کیلئے بہت اہم اور ضروری تھا اور اسی کی بدولت بہت چیزوں کا حصول ممکن ہوا۔ میثاق جمہوریت کے بعد ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔بہت ساری چیزیں تھی جن پر عمل نہیں کیا گیا۔ فیصلہ کرنا ہے کہ اسی طرح لڑنا ہے یا مسائل حل کرنے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی جماعتوں کو استعمال کیا لیکن سوال یہ ہے کہ جماعتیں کیوں استعمال ہوئی۔ عدلیہ اگر سمجھتی ہے کہ انکی آئینی گنجائش ناکافی تو کھل کر بات کرے۔ اسٹیبلشمنٹ اگر اپنے آئینی کردار سے خوش نہیں تو بھی کھل کر بات کرے۔ امیرحیدر خان ہوتی کا کہنا تھا کہ پچھلے میثاق کو بنیاد بنا کر ہم نے ہر قیمت ایک نئے میثاق کی طرف جانا ہوگا۔ استحکام تب تک نہیں آئے گا جب تک ذاتی مفاد کو پس پردہ نہیں ڈالا جاتا۔ ملکی مفاد کو مقدم بنانا ہوگا تب ہی ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔وہ دن چلے گئے جب مسائل کا سارا ملبہ سیاستدانوں پر گرتا تھا۔ تسلیم کرنا ہوگا کہ بدنامی سب کی ہورہی ہے اور جتنی جلدی یہ بات سمجھ میں آئے بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کل بھی شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کیلئے تیار تھی اور آج بھی ہے۔ پانچ بجے کے بعد جنات کی جانب سے بکسے بھرنے کا نتیجہ سب نے دیکھ لیا۔ پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہ تجربہ کرکے کیا حاصل ہوا۔ موجودہ حکومت کو پچھلی حکومت کا گند صاف کرنا پڑ رہا ہے۔ ہم نے موجودہ حکومت کا ساتھ اس لئے دیا کہ عمران نے اپنی سیاست کیلئے پاکستان کو دا پر لگایا تھا۔ ہم نے اقتدار کی خاطر حکومت کا ساتھ نہیں دیا بلکہ اس دھرتی کی خاطر دیا۔ آج بھی ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان کی معیشت کو بچایا جائے اور عوام کو ریلیف دیا جائے۔سیاسی جماعت کی حیثیت سے انتخابات ہمارے لئے اہم ہیں لیکن اس وقت الیکشن سے زیادہ پاکستان کو بچانا ضروری ہے۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئین پر عملدرآمد ہوتا تو آج ہمیں آئینی حقوق کے حوالے سے قرارداد پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ این ایف سی ایوارڈ جاری نہیں ہورہا جس سے محرومی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہم یہ نہیں چاہتے کہ کوئی اور بھوکا سوئے لیکن کسی اور کیلئے پختونوں کو بھوکا رکھنا بھی جائز نہیں۔ اس کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کی سیاسی سنجیدگی ضروری ہے۔اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد صوبے مالی وسائل کے بغیر ذمہ داریاں ادا نہیں کرسکتا۔ اے این پی دور حکومت میں مرکز سیاین ایف سی ایوارڈ ملنے والے ایک پیسے کو بھی ضائع نہیں کیا۔ نئی یونیورسٹیز، کالجز اور سکول بنائے، سکالر شپس کا آغاز کیا۔ سود سے پاک قرضے دیئے اور روزگار کی فراہمی کو ممکن بنایا۔پاکستان کو موجودہ وقت میں میثاق جمہوریت کے ساتھ میثاق معیشت کی بھی ضرورت ہے۔
Load/Hide Comments



