پنجاب کے نگران وزیر اعلی’کے نام پر پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے درمیان اتفاق نہ ہو سکا،اب فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا،بشارت راجہ

لاہور(آن لائن)پنجاب کے نگران وزیر اعلی’کے نام پر پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کے درمیان اتفاق نہیں ہو سکااور اب دونوں اطراف کی نام الیکشن کمیشن کے پاس جا رہے ہیں،سابق صوبائی وزیر راجہ بشارت نے اسمبلی سیکرٹریٹ میں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیر اعلی کیلئے دو پارلیمانی کمیٹیاں بنائی گئی تھی اس کے ا گرجلاس میں دو نام پر بات ہوئی، جو نام ہم نے دئیے ان کو اگر کسی بھی پیمانے پر دیکھیں تو اپوزیشن سے بہتر ہیں، دو دنوں سے نامزد لوگوں کی درگت بن رہی ہے، وہ فیصلے کریں جو عوام کو قابل قبول ہوں، اپوزیشن دو ناموں پر اڑی رہی، ہم نے نصیر احمد کا نام بھی دیا دوبیوروکریٹ کے نام دئیے،فیصلہ یہ ہوا ہے کہ دونوں اطراف کی نام الیکشن کمیشن کے پاس جائیں گے، انکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن چاروں امیدواروں کے کردار کو سامنے رکھ کر بہتر شخص کا نام لائے ہمارے پاس سارے فورم ہیں اگر ایسے شخص کو سامنے لایا گیا جو متنازعہ ہوا تو عدلیہ سمیت ہر جگہ جائیں گے، آج بھی جو نام ہم نے دیئے ان کے ناموں سے ہر لحاظ سے بہتر ہیں ملی بھگت سے نام نہیں دئیے، پی ٹی آئی کے رہنمامیاں اسلم اقبالنے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے نگران وزیرفیصلہ کرنا تھا نوید چیمہ سکھیرا صاحب اور نصیر احمد خان کے نام سامنے رکھے،جس کا کردار اچھا ہو ایڈمنسٹریشن کا تجربہ ہو اسے آگے لایاجائے،احمد نواز سکھیرا ہمارے اور انکے بھی کام کرتے رہے، تجربہ کار لوگوں کو سامنے لایا جائے سپیشل برانچ یا کسی اور ایجنسی کے پاس اچھے کردار کے حامل لوگوں کے سامنے رکھا جائے، سابق صوبائی وزیر ہاشم جواں بخت نے کہا کہ تین ماہ کیلئے غیر جانبدار الیکشن کروانے ضروری ہیں،ایسا نگران وزیر اعلی ہو جس کا تجربہ ہو، ہمارے سارے نام غیر جانبدار ہیں کاش اپوزیشن ہمارے ساتھ بات کرتے اب الیکشن کمیشن میں فیصلہ چلا گیاہے.