قوم اپنے نمائندوں کومنتخب کرنے کیلیے انتہائی ذمہ داری اورمستعدی کیساتھ ووٹ ڈا لے،عارف علوی

اسلام آباد(آن لائن)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ قوم اپنے نمائندوں کومنتخب کرنے کیلیے انتہائی ذمہ داری اورمستعدی کیساتھ ووٹ ڈا لے، پاکستان کو عقل پر مبنی انتہائی ذمہ دار ادارے اور نظام تیار کرنے کی ضرورت ہے جو سمارٹ فیصلے کرنے اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کے قابل ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں نیشنل سینٹر آف انڈسٹریل بائیو ٹیکنالوجی کی افتتاحی تقریب سیخطاب کر تے ہوئے کیا۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان میں نظریات کی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ ہمیں ان کی کثرت کا سامنا ہے تاہم پاکستان کے پاس ایسے اداروں، متعلقہ قوانین اور معاون پالیسیوں کا فقدان ہے جو دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ رہیں۔ ملک میں دولت پیدا کرنے والے آئیڈیاز کو تیز اور نافذ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عقل پر مبنی انتہائی ذمہ دار ادارے اور نظام تیار کرنے کی ضرورت ہے جو سمارٹ فیصلے کرنے اور ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کے قابل ہوں جو ایسی مصنوعات اور خدمات پیدا کرنے میں مدد کریں گے جنہیں بین الاقوامی منڈیوں میں آسانی سے قبول کیا جا سکے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود بدقسمتی سے غذائی قلت اور زرعی اجناس کی قلت کا شکار ہے، تاہم اس میں خود کفیل ہونے اور غذائی اجناس کو دوسرے ممالک کو برآمد کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے کہا، یہ تخلیقی اور اختراعی زرعی عمل اور تکنیکوں کو تیار کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے ترقی یافتہ دنیا میں زیادہ پیداوار دینے والی فصلوں کی نشوونما ہوتی ہے جن کے لیے کم از کم ان پٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے ملک کے تحقیقی اداروں اور ماہرین زراعت پر زور دیا کہ وہ بہترین عالمی زرعی طریقوں سے سیکھیں اور انہیں مقامی تحقیق کے ساتھ جوڑ کر زیادہ پیداوار دینے والے بیج اور فصلیں تیار کریں، اس کے علاوہ کم لاگت والی عمودی کاشتکاری اور ہائیڈروپونک زرعی تکنیک کو اپنانے کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کریں۔ صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو بارشوں اور برفباری کے ذریعے وافر پانی ملتا ہے جو کہ ملک کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے اور اسے مستقبل میں استعمال کے لیے بھی محفوظ جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نچلی سطح پر کسانوں تک موجودہ زرعی علم اور اصلاحی تکنیکوں کو پہنچانے اور منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے پانی کے موثر ذرائع کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے ملک میں صدیوں پرانی کاشت اور آبپاشی کے طریقوں کو تبدیل کرنے میں مدد مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف ملک کو خود کفالت حاصل کرنے میں مدد ملے گی بلکہ پاکستان کے کسانوں کی زندگی اور معاش کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی.