فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے کی گئی قانون سازی پارلیمنٹ کا اجتماعی طور پر غلط فیصلہ تھا۔اسد قیصر

اسلام آباد (آن لائن) قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے کہاکہ ہے کہ فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے کی گئی قانون سازی پارلیمنٹ کا اجتماعی طور پر غلط فیصلہ تھا۔نئی پارلیمنٹ کو اس قانون سازی پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے اسے واپس لینا چاہیے۔ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ سابق فوجی سربراہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع صرف پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ فیصلہ تھا۔ فوجی سربراہ کی توسیع کی روایت غلط ہے اور اس حوالے سے کئی گئی قانون سازی پر انہیں پشیمانی ہے۔حال ہی میں جنرل باجوہ کے سبکدوش ہونے کے بعد عمران خان کہہ چکے ہیں کہ یہ فیصلہ اْن کی بہت بڑی غلطی تھی۔اسد قیصر کہتے ہیں کہ افراد اہم نہیں ہوتے بلکہ ادارے اہمیت رکھتے ہیں اور فوج کے سینئر جنرلز ایک جیسی تربیت و مراحل سے گزرتے ہیں اور یکساں صلاحیتیں اور خوبیاں رکھتے ہیں لہذا توسیع کی روایت کو ختم ہونا چاہیے۔اس سوال پر کہ کیا آرمی چیف کی مدت میں توسیع کی قانون سازی کا فیصلہ آزادانہ تھا؟ سابق اسپیکر نے کہا کہ وہ اس کے آزادانہ یا غیر آزادانہ ہونے پر رائے نہیں دیں گے لیکن یہ ایک غلط فیصلہ تھا۔عمران خان کی جانب سے جنرل باجوہ کو دی گئی توسیع پر سپریم کورٹ نے قانون سازی کی ہدایت کی تھی جس پر حکومت نے جنوری 2020 میں بل پیش کیا جس کی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت تمام بڑی جماعتوں نے حمایت کی اور یہ قانون مختصر وقت میں دونوں ایوانوں سے منظور ہوگیا تھا۔اسد قیصر کہتے ہیں کہ حکومت کی قومی اسمبلی میں واپسی کی دعوت پر جب ان کی پارٹی نے فیصلے کا اعلان کیا تو اسپیکر نے پی ٹی آئی کے 34 اراکین کے استعفے منظور کر لیے۔وہ کہتے ہیں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ واپسی کی پیش کش صرف سیاسی بیان تھا اور حقیقت میں حکومت نہیں چاہتی کہ پی ٹی آئی ایوان میں واپس آئے۔اسد قیصر نے بتایا کہ راجہ پرویز اشرف سے انہوں نے ملاقات کرکے استعفوں کی فوری منظوری کا کہا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے کیوں کہ آئینی تقاضے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق انہیں ہر رکنِ پارلیمنٹ سے علیحدہ تصدیق کرنی ہے کہ اس نے استعفی کسی دباؤ میں تو نہیں دیا۔اسد قیصر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کچھ اراکین کے استفعے منظور کیے جانے کے حالیہ اقدام کے بعد پارٹی قیادت پارلیمنٹ واپسی کے اپنے فیصلے پر نظرِثانی کرے گی.