کراچی (آن لائن) پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر و صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی پر حیرت کرنے والوں کو شاید علم ہی نہیں کہ ہمارے 5 قومی اسمبلی اور 7 صوبائی اسمبلی کے ارکان یہاں سے ہیں اور حیرت کرنے والے حافظ نعیم الرحمن کا اپنی جماعت کا نہیں بلکہ متحدہ مجلس عمل کا صرف ایک ایم پی اے ہی ہے۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کے نہیں بلکہ جماعت اسلامی کے نتائج حیرت انگیز ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو کسی نتیجے پر اعتراض ہے تو وہ اسے چیلنج کریں، ہم نے بھی ری کاؤنٹنگ کی متعدد درخواستیں دی ہیں۔ شہر کے بہتر مفاد میں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی ساتھ مل کر چلیں تو بہتر ہے۔ پیپلز پارٹی دیہات کی نہیں بلکہ وفاق کی جماعت ہے یہ تاثر کہ ہم دیہات کی پارٹی ہے یہ بالکل غلط ہے۔ پی ٹی آئی والے فی الحال اس قابل نہیں کہ ان سے کسی قسم کی کوئی بات کی جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری، نجمی عالم، سلمان مراد، سردار خان، خلیل ہوت، جاوید شیخ، آصف خان، شکیل چوہدری، راشد خاضخیلی، ناصر لودھی، اسلم سموں و دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا کہ حافظ نعیم کی باتیں دودن سے سن رہے ہیں، حیرت ہے کہہ رہے ہیں پیپلزپارٹی نے اتنی نشستیں کیسے جیتی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ 2018ء کے الیکشن میں پانچ ایم این اے اور 7 ایم پی ایزکی نشستیں پیپلزپارٹی کو ملی دھاندھلی کے باوجود ہم ملیر، جنوبی ڈی ایم سیز میں رہے، اس کے برعکس جس جماعت کاصرف ایک ایم پی اے جو بھی متحدہ مجلس عمل کا تھا وہ کہہ رہے ہیں پیپلزپارٹی کیسے جیتی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ سینٹرل کی 42 میں سے 39 یوسیز پر جماعت جیتی ہے اور یہ ان دفاترکے باہر مظاہرے کررہے تھے، ویسٹ اور کورنگی میں بھی مظاہرے کئے کورنگی 34میں سے پیپلزپارٹی چار جیتی جماعت اسلامی 19پر جیتی ہے۔ جونتائج سب سے زیادہ تاخیرسے آئے وہ لانڈھی ٹاؤن کی ہیں وہاں سے نوکی نو پرجماعت اسلامی جیتی۔ انہوں نے کہا کہ ایسٹ میں جماعت چودہ پیپلزپارٹی آٹھ ہیں، سعید غنی نے کہا کہ پیپلزپارٹی ملیر، ساؤتھ اورکیماڑی سے جیتی ہے جو تاریخی طور پر جیتی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ پیپلزپارٹی لیاری ویسٹ سے جیت جائے توحیرت ہے جماعت اسلامی سینٹرل، کورنگی اور ایسٹ سے جیت جائے توحیرت نہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تین اضلاع سے 79 سیٹس ہیں ہماری پوری کراچی سے 94ہوں تو ان کوحیرت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صدر اور ایسٹ سے کم نسشتیں ملی ہیں، ہمیں سینٹرل سے بھی صرف تین یوسیز پر کامیابی ملی ہیں ہمیں زیادہ توقع تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے 1977 ہو یا 1979 یا 1984 سب میں کراچی میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ چول علی زیدی کہہ رہے ہیں ہماری چالیس سیٹیں لے لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کوکسی نتیجے پر اعتراض ہے توچیلنج کریں، ہم نے بھی ری کاؤنٹنگ کی درخواستیں دی ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ ماحول بنا دیا گیا ہے کہ جماعت اسلامی پہلے نمبر پر ہے۔ میں یوچھتا ہوں کہ کیا یہ لکھوا کر تو نہیں لائی۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میں نے الیکشن سے پہلے کہا تھا مقابلہ ہمارا اور جماعت اسلامی کا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران اسماعیل نے پانچ بجے کہہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی جیت گئی۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کو کراچی کے شہریوں نے مینڈیٹ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ او بھائی تسلیم کرو، ہمارا نمبر 93 نہیں 95 سے 96 ہوگا۔ مئیر کے سوال پر انہوں نے کہا کہ میئر اپنی جماعت سے بنانے کی سب کوشش کرسکتے ہیں، جماعت بھی کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جس طرح آپ کے مینڈیٹ کو تسلیم کررہے ہیں، ہمارے مینڈیٹ کو آپ بھی تسلیم کریں، کیونکہ حیرت انگیز مینڈیٹ تو جماعت اسلامی کا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ شہر کے بہتر مفاد میں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی ساتھ مل کر چلیں تو بہتر ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر 10 نشستوں والا پرویز الٰہی جب وزیر اعلٰی بن سکتا ہے تو پھر کراچی میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی تنظیم نے کراچی میں بہت محنت کی ہے۔
Load/Hide Comments



