کوئٹہ (آن لائن)وادی کوئٹہ سمیت صوبے کے بالائی اضلاع شدیدسردی کی لپیٹ میں ہیں،صوبہ کے بیشتر اضلاع میں موسم شدید سرد اور خشک رہے گا۔جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے آج سے 20 جنوری تک صوبے کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی پیشن گوئی کی ہے جبکہ پی ڈی ایم اے نے بارش اور برفباری کے امکانات کے پیش نظر کوئٹہ اور صوبے کے مختلف علاقوں میں الرٹ جاری کردیا ہے۔ کوئٹہ میں میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8،زیارت منفی 11 اورقلات میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت نکتہ انجماد سے نیچے گرنے کے بعد برساتی نالوں اور پائپ لائینوں میں پانی جم چکا ہے۔ صوبے کے کسی ڈویژن میں بھی درجہ حرارت ڈبل فیگرز میں نہیں۔ شمالی اور جنوبی بلوچستان، شمالی بلوچستان سمیت میدانی اور ساحلی علاقے بھی ان دنوں شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں۔ زیارت میں پارہ منفی 11 قلات میں 10ریکارڈ کیا گیا۔ رخشان ڈویژن کے گرم ریگستانی علاقوں میں بھی ٹیمپریچر نکتہ انجماد سے کہیں نیچے جاچکا ہے۔ نوکنڈی منفی 05 جبکہ دالبندین کا درجہ حرارت منفی 05 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔ ساراوان میں مستونگ مائنس 10 جبکہ کوئٹہ میں مرکری مائنس 8تک پہنچ گیا۔ پشین اور چمن منفی 7، مسلم باغ،پنجگور اور ژوب منفی 6 جبکہ خاران اور لورالائی میں ٹیمپریچر مائنس 3 ڈگری سیلسئیس تک ریکارڈ ہوا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک بھی رخشان، جھالاوان، ساراوان، مکران، نصیر آباد اور کوسٹل بیلٹ میں بھی موسم سرد رہنے کا امکان ہے۔ ناموافق موسم کی وجہ سے ماہی گیروں کو بھی اوپن سیی نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔سردی کی لہر برقراررہنے کی وجہ سے ایران افغانستان سرحد سے مکران کے ساحل اور حب کراچی تک بلوچستان کے علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں ہے۔ ندی نالوں اور پانی کی سپلائی لائینوں میں پانی مسلسل ایک ہفتہ سے جم چکا ہے۔ موسم کی شدت مزید کچھ روز برقرار رہنے کا بھی امکان ہے۔بلوچستان میں برفانی قندھاری ہواو ں نے ڈیرا ڈال رکھا ہے۔ برساتی نالے اور تالاب یخ بستہ ہوائیں چلنے سے جم کر پختہ فرش بن گئے ہیں۔ موسم کی شدت سے لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ جبکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے 18 سے 20 جنوری کے درمیان کوئٹہ، ژوب، بارکھان، زیارت، نوشکی، نوکنڈی، دالبندین، قلات، مستونگ، ہرنائی، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، پشین، چمن، مسلم باغ میں بارش اور برفباری کے امکانات کے پیش نظر پی ڈی ایم اے کی جانب سے الرٹ جاری کیا گیا ہے.
Load/Hide Comments



