جام شورو(آن لائن)وزیراعلیٰ سندھ سیدمرادعلی شاہ نے کہاہے کہ میئرکراچی کاحق پاکستان پیپلزپارٹی کاہے،اتحادکافیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔ عمران خان نے اپنے دورِاقتدارمیں ملک کے ساتھ جوکیاوہ سب کے سامنے ہے۔ ایک شخص کی اناکی وجہ سے اسمبلی تحلیل کرنادرست نہیں۔ایم کیوایم کے اعتراضات کے حوالے سے ہم نے الیکشن کمیشن کوخط لکھامگرانہوں نے منع کردیا۔ یہ بات وزیراعلیٰ سندھ نے پنہورانسٹیٹیوٹ آف سندھ اسٹڈیزمیں ڈیجیٹل لائبریری کے افتتاح کے موقع پرمیڈیاسے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ میں وزیراعلیٰ خیبرپختون خواہ کومشورہ دیتاہوں کہ اسمبلی تحلیل نہ کریں کیونکہ ایک شخص کی اناکومقدس سمجھ کراتنی بڑی غلطی کرنادرست نہیں۔انہوں نے کہاکہ کے پی کے حکومت کواسمبلی تحلیل کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچناچاہیے۔انہوں نے کہاکہ کراچی سے شکست پرایک شخص کی اناکوٹھیس پہنچی ہے۔ 2018 ء کے انتخابات میں پی ٹی آئی امیدواررات سوتے اورصبح اٹھ کرکہ کہتے کہ جیت گئے۔ پی ٹی آئی کے ایسے امیدواربھی تھے جنہیں اپنے حلقے کاعلم نہیں تھالیکن جب وہ صبح اٹھے توالیکشن جیت چکے تھے۔وہ سمجھ رہے تھے کہ الیکشن ایسے ہی ہوتے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ میں نے چوہدری پرویزالہٰی کوبھی مشورہ دیاتھاکہ اسمبلی تحلیل نہ کریں جب تک آپ کے پاس کوئی ٹھوس وجوہات نہ ہوں یعنی جب آپ سمجھیں کہ آپ سے معاملات نہیں چل پارہے یادوسری صورت کہ آپ کایہ اقدام صوبے کی بہتری کیلیے ہو،محض ایک شخص کی اناکومقدس مان کراسمبلیاں تحلیل کرناسمجھ سے باہرہے۔انہوں نے کہاکہ ہم نے الیکشن مہم بڑی بہتراندازمیں چلائی جیساکہ ایک جمہوری جماعت کوکرناچاہیے۔ متحدہ نے حلقہ بندیوں کے حوالے سے ہرفورم کارخ کیاتھااورسپریم کورٹ نے بھی ان سے کہاکہ آپ صوبائی حکومت یاالیکشن کمیشن سے بات کریں۔ ہم نے اس حوالے سے الیکشن کمیشن کوبھی لکھالیکن انہوں نے بات نہیں مانی۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کے دوران ایک بڑامسئلہ امن وامان کی بحالی کاتھاکیونکہ جس طرح کی دھمکیاں پورے پاکستان کودی جارہی تھی،اس حوالے سے ہم نے سوچاکہ کوئی بڑاسانحہ پیش نہ آئے مگراللہ کے کرم سے الیکشن پْرامن رہے اوریہ الیکشن پاکستان کی تاریخ کے سب سے پْرامن الیکشن تھے۔انہوں نے کہاکہ میں تمام قانون نافذکرنے والوں کاشکریہ اداکرتاہوں۔ انہوں نے کہاکہ اتحادکے حوالے سے پارٹی قیادت جوفیصلہ کریگی ہم تسلیم کریں گے۔
Load/Hide Comments



