عمران خان کے دور حکومت میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی طرف سے 863 ارب روپے کی لی گئی ضمنی گرانٹس خلاف قواعد قرار

اسلام آباد (آن لائن)سابق وزیر اعظم عمران خان کے دور حکومت میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کی طرف سے 863 ارب روپے کی لی گئی ضمنی گرانٹس خلاف قواعد اور غیر ضروری قرار دے دی گئی اور اس وقت کی حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے کہ بجٹ میں مختص رقم استعمال نہ کرنے کے باوجودوزارتیں الٹا ضمنی گرانٹس لیتی رہیں۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سنگین مالی بحران کے باوجود وفاقی وزارتیں اور ڈویڑنز مالیاتی کنٹرول میں ناکام رہی اسی تناظر میں آڈیٹر جنرل نے مختلف وزارتوں اور ڈویڑنوں کی طرف سے لی گئی 863 ارب سے زائد کی ضمنی گرانٹس کو غیر ضروری اور خلاف ضابطہ قرار دے دیا ہے،دستاویزات کے مطابق ضرورت نہ ہونے کے باوجود ضمنی گرانٹس لیکر قومی خزانے اور وفاقی بجٹ پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا عمران خان دور حکومت میں استعمال سے بچ جانے والی رقم واپس قومی خزانے میں جمع نہ کروائی گئی،2020.21 میں وزارت خزانہ کے ذمہ داران مالیاتی کنٹرول اور چیک اینڈ بیلنس میں ناکام رہے۔وزارتیں مزید ضمنی گرانٹس لیتی رہیں مگر پہلے سے موجود رقم استعمال نہ کی مختلف مدوں کیلیے مختص بجٹ بھی عمران حکومت استعمال کرنے میں۔ ناکام رہی کوئی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے وزارتیں اور ڈویڑنز ضمنی گرانٹس کیلیے من مانی کرتے رہے ہر وزارت اور ڈویڑن کیلیے ضروری تھا کہ وہ استعمال سے بچ جانے والی رقم 15 مئی تک قومی خزانے میں واپس جمع کرواتیں الٹا انہوں نے جو رقم بچت میں پڑی ہوئی تھی اسے بھی استعمال نہ کیا گیا اور اسی وجہ سے آڈیٹر جنرل نے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی سفارش کی ہے۔دستاویزات کے مطابق متعلقہ وزارتوں کا موقف یہ تھا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 84 کے تحت ضمنی گرانٹ لے سکتے ہیں تا کہ وہ اپنی ناگزیر ضروریات کو پورا کر سکیں اور انہوں نے بچ جانے والی رقم سرنڈر کر دی تھی تاہم آڈٹ حکام نے مینجمنٹ کے اس جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور کہا کہ بھاری ضمنی گرانٹس لیکر قومی خزانے اور وفاقی بجٹ پر بوجھ ڈالا گیا ہے۔