لاہور (آن لائن) پی ٹی آئی رہنما فیاض الحسن چوہان نے کہا کل پنجاب اسمبلی میں دو شیطان لیڈروں رانا ثناء اللہ اور عطا تارڑ کی سرپرستی میں طوفان بدتمیزی برپا کیا گیا، کل دنیا نے دیکھا کہ ن لیگ کے اراکین پنجاب اسمبلی کو 2 نااہل، نکمے اور شیطانوں نے اراکین پنجاب اسمبلی کو اپنی انگلیوں پر نچایا، ان کا مطالبہ تھا کہ اعتماد کا ووٹ لو، اس ایشو کی قانونی پوزیشن یہ ہے کہ یہ کیس لاہور ہائیکورٹ میں چل رہا ہے، ہمارا موقف ہے کہ پنجاب اسمبلی کے 2 اجلاس چل رہے ہیں تو گورنر تیسرا اجلاس نہیں بلا سکتے، اعتماد کے ووٹ لے لئے وزیراعلی کے دفتر کو ایڈریس کرنا ہے، اسپیکر کو نہیں کرنا، سپیکر نے قواعد کے مطابق اپنے اختیارات کے تحت رولنگ دی جو حرف آخر تصور کی جاتی ہے، سپیکر نے گورنر کے حکم کو مسترد کر دیا اور معاملہ عدالت میں چلا گیا۔ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا رانا ثناء اللہ نے شاید وکالت کی جعلی ڈگری لے رکھی ہے، چھوٹو تارڑ کے دادا جسٹس تھے جنہوں نے قانون کے اندر قانون کو گندہ کرنے کی کوشش کی، ان کا آج بھی اسمبلی میں غنڈہ گردی کرنے کا پلان ہے، فیصلہ ہمارے خلاف آیا تو ہم سپریم کورٹ سے رجوع کرینگے اور وہاں سے آنے والے حکم پر عملدرآمد کرینگے ۔ سپیکر کے پاس اختیار ہے کہ لاقانونیت کرنے والے پر پابندی لگ سکتی ہے، ہم قانون اور اخلاق کے پابند ہیں، گورنر نے غیرقانونی حکم کو ہم ماننے پر تیار نہیں ہیں، گورنر اپنے بلائے گئے اجلاس کو پہلے غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی تو کریں، یہ کل مونچھوں والا بندر اور 16 ویں گریڈ کا کا لقب لے کر ایوان سے رخصت ہوئے، آج الیکشن کمیشن نے عمران خان، اسد عمر اور دیگر قائدین کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں۔ اس کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلے ہی سٹے دیا ہوا ہے، اس کیس کی پیشی 17 جنوری کی تھی لیکن انہوں نے اسے 10 جنوری کر کے وارنٹ جاری کر دئیے، یہ ہائیکورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے، ہم اس پر عدالت سے رجوع کرینگے، یونین کونسل کی سطح پر ایسی بے ڈھنگی حد بندیاں کی گئی ہیں جس پر ہر رکن کو اعتراض ہے، اس حد بندی پر ہم اپنی رائے دے سکتے ہیں لیکن اس پر فوری ایکشن لے لیا جاتا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن پنجاب اسمبلی میں پولیس کے داخلے کا نوٹس لے گا، کیا الیکشن کمیشن نے فارن فنڈنگ کیس کا تینوں جماعتوں کا اکٹھا فیصلہ کرنا تھا، ہمارے پاس نمبر پورے ہیں۔
Load/Hide Comments



