سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس،افغانستان سے دہشت گردی کے واقعات پر اظہار تشویش

اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ کی دفاعی کمیٹی نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا جبکہ افغانستان سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک جامع پالیسی مرتب کرنے اور نیکٹا کو انسداد دہشت گردی کے لئے لیڈنگ رول دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا جس میں کمیٹی اراکین سجاد وسیم،ہدایت اللہ،انوارالحق کاکڑ،عمر فاروق،ڈاکٹر زرقا تیموراور سینیٹر پلوشہ خان نے شرکت کی جبکہ سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر)محمود الزمان نے افغان سائیڈ سے پاکستان کے اندر ہونے والے حملوں کی وجوہات اور اس کی روک تھام کے اقدامات کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ میں داخلی سلامتی کی بگڑتی صورت حال اور سی ٹی ڈی کمپلیکس بنوں میں دہشت گردی کے حالیہ واقعہ پر بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق سیکرٹری دفاع کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ سی ٹی ڈی کمپلیکس بنوں پر حملہ کرنے والے دہشت گرد افغانستان سے نہیں آئے تھے،وہ مقامی لوگ تھے اور ان کے خلاف ایکشن کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا تاہم سی ٹی ڈی کی صلاحیت کو بڑھائے جانا بہت ضروری ہے،کمیٹی اراکین کا موقف تھا کہ افغانستان سے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے ایک واضح حکمت عملی مرتب کی جائے،پاکستان کا انسداد دہشت گردی کے حوالے سے نقطہ نظر واضح ہے اور قومی سلامتی کمیٹی نے بھی زیرو ٹالرونس کی پالیسی کی حمایت کی ہے،کمیٹی اراکین نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جامع پالیسی کے ساتھ ساتھنیکٹا کو لیڈنگ رول دیا جائے،نیشنل ایکشن پلان پر نظر ثانی کی جائے،سابقہ فاٹا کے جن اضلاع کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیا گیا ان کو مالیاتی وسائل اور مدد فراہم کی جائے،انسداد دہشت گردی کے لئے تمام متعلقہ اداروں اور سٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت اور کوآرڈینیشن ہونی چاہیے،ذرائع کے مطابق سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ خانیوال کے قریب دہشت گردی کے واقعہ میں حساس ادارے کے دو افسران شہید ہوئے ہیں اس میں کون لوگ ملوث ہیں اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور کمیٹی کو جلد اس حوالے سے آگاہ کر دیا جائیگا۔