حیدرآباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ ہم 6کروڑ سندھیوں کی تکلیف اور ناانصافیوں کا کیس لے کر آئے ہیں تاکہ سندھ کے عوام کو یہاں کے کرپٹ حکمرانوں سے نجات دلائیں، بلاول زرداری، بھٹو نہیں ہے اسلیکن زرداری مافیا نے زمین خریدنے نہیں دی اور منصوبے کو کرپشن کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ وہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول زرداری غیر ملکی دوروں پر ایک ارب 75 کروڑ روپے خرچ کر چکے ہیں ملک دیوالیہ نہ ہوگا تو پھر کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک دیوالیہ ہونے کو ہے لیکن حکمران جھوٹی رام کہانیوں سے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور کہا گیا تھا کہ مسٹر ڈالر آئے تو ڈالر سستا ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ اب تک سندھ میں سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی نہیں ہوسکی ہے چالیس فیصد سیلابی پانی کی نکاسی بھی نہیں ہوسکی ہے اور جب سیلاب متاثرین احتجاج کرتے ہیں تو ان کے خلاف دہشت گردی کے کیس داخل کیے جا تے ہیں جو کہ ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول زرداری دنیا کے دورے کر رہے ہیں وہ سندھ کا بھی دورہ کرکے سندھ کے لوگوں کا حال کیوں نہیں معلوم کرتے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ سندھ کے عوام کن تکلیف کا سامنا کر رہے ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ 14 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود ایل بی او ڈی کے ڈیزائن تک نہیں بن سکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں گیس نہیں ہے اور بتایا جائے کہ سندھ کا دشمن کون ہے،یہ روس سے خریداری پر مخلص نہیں اور جس ملک میں جاتے ہیں وہاں کی زبان بولتے ہیں، وزیر خارجہ بتائیں کہ افغانستان سے حملے کیوں ہو رہے ہیں سندھ حکومت کا ڈی سی ہائی وے کی رقم سے 6ارب روپے کھا گیا اور لوگ پیسہ کھا کر ملک سے فرار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے اپنے استعفے دستخط کر کے چیئرمین کو بھیج دیئے ہیں،میرے خلاف آج سے نہیں بلکہ 1987ء سے کیس چل چل رہے ہیں اور ان کیسوں کو آج 35 سال ہو چکے ہیں جبکہ میرے خلاف کیسوں کی تعداد 28 ہو چکی ہے، سعید غنی نے بھی توہین عدالت کی درخواست داخل کی ہے میرے پاس امریکہ لندن اور دبئی کے ویزے ہین لیکن میں بھاگ کر نہیں جاؤں گا بلکہ مقابلہ کروں گا۔
Load/Hide Comments



