اسلام آباد (آن لائن)وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ مذہب پر سیاست چمکانے، شہداء کے خلاف غلیظ مہم چلانے اور قومی مفادبیچنے والا اب کشمیر پر سیاست کررہا ہے،توشہ خانہ لوٹنے اور گھڑیاں بیچنے والا اب کشمیر کے نام پر اپنی گندی اور بے شرم سیاست کررہا ہے،اپنے ایک بیان میں مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کشمیر فروش وزیراعظم شہبازشریف کو نہ بتائے کہ مسئلہ کشمیر پر کیا کرنا ہے،کشمیر پر ایک گھنٹہ اٹھک بیٹھک کرنے اور سڑک چوراہوں کے نام بدلنے والا قومی مفاد پرکھیل کھیل رہا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر نے عمران خان کے اْکسانے پر منگلا ڈیم کی مرمت کے منصوبے کی تقریب میں افسوسناک حرکت کی، عمران خان نے اپنی ڈوبتی سیاست کی خاطر آزادکشمیر اور پاکستان کی بہتری کے منصوبے کی تقریب کو منفی رنگ دینے کی گھٹیا اورقابل مذمت چال چلی ہے،انہوں نے کہا کہ سائفر کے منٹس تبدیل کرکے قومی مفادات کو ٹھیس پہنچانے والے ”کاریگر“سے اور توقع ہی کیا کی جاسکتی ہے؟ افسوس! وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنے منصب کا خیال رکھا اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کی نزاکت کی پرواہ کی، ذاتی، جماعتی اور سیاسی مفادات کے لئے مسئلہ کشمیر کو اس بھونڈے انداز میں استعمال کرنا مناسب نہیں تھا، انہیں یہ خیال کرنا چاہئے تھا کہ وہ آزاد ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر نے جان بوجھ کر وزیراعظم شہبازشریف کی تقریر کے دوران مداخلت کی، وزیراعظم شہبازشریف نرمی سے انہیں یہ کہتے رہ گئے کہ ہم بیٹھ کر بات کریں گے، وزیراعظم شہبازشریف نے اْن سے یہ بھی کہا کہ کوئی مسئلہ ہے تو وہ وزیراعظم آزادکشمیر سے مل کر اسے حل کریں گے، وزیراعظم شہبازشریف نے ہر عالمی فورم پر کشمیراورکشمیریوں کے مفادات کی بھرپور ترجمانی کی ہے،مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، شنگھائی تعاون تنظیم سمیت ہر عالمی علاقائی فورم پر مسئلہ جموں و کشمیر کو پوری قوت سے اجاگر کیا ہے، کاش! وزیراعظم آزاد کشمیر اس جرات کا اظہار اپنے ”کشمیر فروش قائد“ کے سامنے کرتے؟کشمیر فروش کی نالائقی، نااہلی اورسازش کی وجہ سے بھارت کو 5 اگست 2019 کا غیرقانونی اقدام اٹھانے کی جرات ہوئی،کشمیر فروش مودی کی الیکشن میں کامیابی کی دعائیں کرتا رہاہے،کشمیر فروش کہتا تھا مودی کے دوبارہ منتخب ہونے پر مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا، تنازعہ جموں و کشمیرپر پورا پاکستان متحد اور ایک آواز ہے۔ اس حساس معاملے کو سیاسی وجماعتی تقسیم کی بھینٹ نہ چڑھائیں تو مہربانی ہوگی۔
Load/Hide Comments



