عدلیہ کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز تقریر،اسد عمر نے غیر مشروط معافی مانگ لی،عدالت نے نوٹس نمٹا دیا

راولپنڈی (آن لائن)لاہورہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس جواد حسن کے روبروراولپنڈی جلسہ میں عدلیہ کے خلاف نازیبا اور توہین آمیز تقریر پر تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی جس پر عدالت نے اسد عمر کو جاری توہین عدالت کا نوٹس نمٹادیاتاہم عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالتوں نے آپکو لانگ مارچ کی اجازت دی اور آپ نے عدالتوں پر الزامات لگائے یہاں مسئلہ توہین عدالت کا نہیں اداروں اور انکی شخصیات پر الزامات کا ہے، بدھ کے روز سماعت کے موقع پر کمشنرو ڈپٹی کمشنرراولپنڈی اورسی پی اوراولپنڈی عدالت میں موجودتھے جبکہ تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسد عمر کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اس موقع پر عدالت نے فیصل چوہدری سے استفسار کیا کہ آپ کے موکل کہاں ہیں انکو پیش کریں جس پر اسد عمر نے عدالت کے روسٹم پر آکر اپنی تقریر پر غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میرا مقصد کسی بھی جج یا عدلیہ کو نشانہ بنانا نہیں تھا ہم عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اگر میری تقریر سے کوئی لائن کراس ہوئی ہے تو میں عدالت سے معافی مانگتا ہوں اس موقع پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالتوں نے آپکو لانگ مارچ کی اجازت دی اور آپ نے عدالتوں پر الزامات لگائے یہاں مسئلہ توہین عدالت کا نہیں اداروں اور انکی شخصیات پر الزامات کا ہے جس پر اسد عمر نے کہا کہ میری تقریر میں کسی جج کا نام نہیں تھاجس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کے پاس آپکا وڈیو بیان موجود ہے آپ کو معلوم ہے آپ نے تقریر میں کیا کہا؟عدالتیں آئین کے آرٹیکل 50 اور 60 کے تحت رائٹ ٹو ڈیموکریسی اور رائٹ ٹو موومنٹ کی اجازت دیتی ہیں لیکن اداروں پر تنقید نہیں عدالت نے اسد عمر کو جاری توہین عدالت نوٹس کیس کونمٹا دیایاد رہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے اختتام پر26نومبرکو مری روڈ راولپنڈی میں جلسہ عام کے دوران تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری اسدعمرنے اپنی تقریر میں عدلیہ کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے عدالتوں کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش کی تھی جس پر گزشتہ تاریخ پر عدالت نے اسد عمر کو ذاتی طور پر طلب کیا تھا یاد رہے کہ راجہ خالد محمود نے ملک صالح محمد ایڈووکیٹ، صدر انجمن تاجران راولپنڈی کینٹ شیخ محمد حفیظ نے کرنل (ریٹائرڈ) انعام الرحیم ایڈووکیٹ اور پیپلز پارٹی کے رہنماملک خالد نواز بوبی و چوہدری عبدالرحمن توکلی نے اسد عباسی ایڈووکیٹ کے ذریعے سڑکوں اور تعلیمی اداروں کی بندش کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الگ الگ پٹیشنیں دائر کی تھیں پٹیشنوں میں وفاقی سیکریٹری داخلہ،چیف سیکریٹری پنجاب،آئی جی پولیس پنجاب،آر پی او راولپنڈی، سی پی او راولپنڈی،کمشنروڈپٹی کمشنر راولپنڈی،تحریک انصاف کے سربراہ عمران نیازی اورجنرل سیکریٹری اسد عمر کو فریق بنایا گیا تھاان پٹیشنوں میں موقف اختیار کیا گیا تھا چھوٹی چھوٹی ٹولیوں اور جتھوں کی صورت میں تحریک انصاف کے دھرنوں کے دوران موٹر وے، جی ٹی ر وڈاورمری روڈ سمیت راولپنڈی کی تمام داخلی شاہراہوں کے علاوہ اندرون شہر سڑکوں اور راستوں کی بندش سے شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق متاثر ہوئے ڈپٹی کمشنر نے راولپنڈی کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا گیا راستوں کی بندش سے ایمبولینس میں موجود مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہونے کے باوجود ہسپتالوں میں نہ پہنچ سکے جبکہ راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان چلنے والی واحد ٹرانسپورٹ میٹرو بس سروس کی بندش سے یومیہ ہزاروں شہری سفری مشکلات کاشکار ہو رہے ہیں پٹیشنوں میں کہا گیا تھا کہ شہریوں کو سفری سہولیات سے محروم کرنا، ذرائع نقل و حمل اور کاروباری سرگرمیوں کو بند کرناضلعی انتظامیہ کے غیر قانونی اقدامات ہیں راستوں اور سڑکوں کی بندش کی وجہ سے میٹرو بس سروس سمیت ہر قسم کی ٹرانسپورٹ معطل ہونے سے لاکھوں طلبا و طالبات اور ملازمت پیشہ افراد تعلیمی اداروں اور دفاتر میں پہنچے میں ناکام رہے ان اقدامات سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کے بے روزگار ہونے سے ان کے گھروں کے چولہے بند کر دیئے گئے راستوں اور تعلیمی اداروں کی بندش شہریوں، طلبا وطالبات،مریضوں،کاروباری اور ملازمت پیشہ افراد سمیت تمام طبقات کے بنیادی آئینی حقوق بری طرح متاثر کئے گئے۔