عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس،حکومت توہین عدالت کارروائی کیلئے کیسے متاثرہ فریق ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے لانگ مارچ سے متعلق عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس میں ریمارکس دیے ہیں دیکھنا ہے ڈی چوک پہنچنے والے مقامی تھے یا لانگ مارچ کا حصہ؟ توہین عدالت کارروائی کسی کو سزا دینے کیلئے نہیں ہوتی،حکومت توہین عدالت کارروائی کیلئے کیسے متاثرہ فریق ہے؟چیف جسٹس آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف وزارت داخلہ کی دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے موقع پر ریمارکس دیئے ہیں کہ عمران خان کہتے ہیں انہیں عدالتی حکم کا علم ہی نہیں تھا،حکومت صرف معاونت کر سکتی ہے، فیصلہ عدالت نے کرنا ہے،عدالت نے دیکھنا ہے کہ کن حالات میں کیا ہوا تھا،پچیس مئی کو حالات کشیدہ تھے، مظاہرین کسی کے کنٹرول میں نہیں تھے، لارجر بنچ نے جب سماعت شروع کی تو لانگ مارچ ختم ہوچکا تھا،کس نے کیا کہا اور کیا کال دی گئی تھی سب حالات کا جائزہ لینا ہے،دیکھنا ہے ڈی چوک پہنچنے والے مقامی تھے یا لانگ مارچ کا حصہ؟ توہین عدالت کارروائی کسی کو سزا دینے کیلئے نہیں ہوتی،عدالت کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا لیکن نوٹس نہیں لیا، عدالت کو اسکے فیصلوں پر پرکھیں نا کہ اپنے اپنی سوچ پر کہ نیت کیا تھی۔جسٹس مظاہر علی نقوی نے ریمارکس دیئے کہ کون غلط کہ رہا ہے کون نہیں سپریم کورٹ کیسے تعین کرے،سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے جو شہادتیں ریکارڈ کرے، حکومت کی درخواست پہلے ہی غیرموثر ہے،حکومتی وکیل پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں،توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے،سپریم کورٹ نے کہا تھا عدالت چاہے گی تو کارروائی کرے گی،کوئی ایک عدالتی فیصلہ دکھا دیں جس میں غیرموثر کیس میں توہین عدالت کی کارروئی ہوئی ہو،لانگ مارچ حکومت کیخلاف احتجاج تھا ڈسپلن سے ہونے والی پریڈ نہیں،کیا ڈی چوک پر احتجاج کیلئے ممنوعہ جگہ ہے؟ ماضی میں کیا ہوتا رہا عدالت اس سے متاثر نہیں ہوگی، عدالت کے سامنے بیانات دینے پر پابندی نہیں، آپ نے انہیں غلط ثابت کرنا ہے،حکومت فوجداری کارروائی چاہتی ہے تو اس کے تقاضے بھی سمجھے۔عدالت عظمی میں معاملے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت وزارت داخلہ کے وکیل سلمان بٹ نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا کہ عمران خان 24مئی سے ڈی چوک جانے کی کال دے رہے تھے،عمران خان عدالتی حکم سے آگاہ تھے یہ بات ریکارڈ سے ثابت ہے، جیمرز صرف حکومت کی اجازت سے ہی لگائے جا سکتے ہیں.