تمام کورٹ کیسز کو ادارے کی لیگل ٹیم موثر انداز سے دیکھ رہی ہے، چییرمین پی ٹی اے

اسلام آباد(آن لائن) پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) میں کئی سالوں سے التوا کا شکار اربوں روپے کے عدالتی کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام کیسز کی تفصیلات طلب کر لی ہیں،کمیٹی نے خود مختار اداروں اور ڈوویژن میں انٹرنل آڈٹ کے نظام کو لاگو کرنے کیلئے کابینہ ڈویژن کو وزارت خزانہ سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر نواب شیر وسیر کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤ س میں منعقد ہوا اجلاس میں سیکرٹری کیبنیٹ سمیت چیرمین پی ٹی اے اور آڈٹ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں کیبنٹ ڈویژن کے ذیلی ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور فریکوینسی ایلو کیشن بورڈ کے مالی سال 2017/18اور2018/19کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا اجلاس کے دوران کنوینر کمیٹی نے مالی سال کے دوران 31ارب روپے سے زائد کے کورٹ کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کے اربوں روپے مقدمات کی وجہ سے وصول نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس پر چییرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ تمام کورٹ کیسز کو ادارے کی لیگل ٹیم موثر انداز سے دیکھ رہی ہے انہوں نے کہاکہ ادارے میں ٹریبونل کا قیام بے حد ضروری ہے اس حوالے سے سمری تیار کرکے بھجوائی گئی ہے تاہم اس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے جس پر کنوینر کمیٹی نے سیکرٹری کیبنیٹ کو ہدایت کی کہ پی ٹی اے میں ٹریبونل کے قیام کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں اس موقع پر کمیٹی کے رکن ڈاکٹرملک مختار احمد نے کہاکہ تمام اداروں میں انٹرنل آڈٹ کا مضبوط نظام ہونا چاہیے کیونکہ آڈیٹر جنرل آفس کا آڈٹ صرف 10فیصد پر محیط ہوتا ہے جو پورے ادارے کو کور نہیں کرتا ہے انہوں نے کہاکہ 2019میں تمام اداروں میں انٹرنل آڈٹ کا نظام لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے جس پر کنوینر کمیٹی نے سیکرٹری کیبنیٹ ڈویژن کو ہدایت کی کہ تمام اداروں میں انٹرنل آڈٹ کا موثر نظام نافذ کرنے کیلئے وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر اقدامات اٹھائے جائیں انہوں نے کہاکہ اس اقدام سے اداروں کی کارکردگی میں مذید بہتری آئے گی۔