کوہستان (آن لائن)پی ڈی ا ایم کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کیخلاف سازش کا نام عمران خان ہے، کہہ رہا تھا اسلام آبادآؤں گا،پھر آئے کیوں نہیں، عمران خان اسلام آباد آتا تو اس کی تباہی مچ جاتی، 10لاکھ لوگوں کادعویٰ کرکے صرف10ہزارلوگوں کوجمع کرسکے،ہم سمجھتے ہیں اگر یہ استعفے دیں تو ملک کا نظام ان سے پاک ہوجائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپر کوہستان میں پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے صرف عمران خان کی حکومت ختم نہیں کی، ہم نے ملک کو بچایا ہے، ہم نے پاکستان کو عالمی تنہائی اور معاشی دیوالیہ پن سے بچایا۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ ان کی حکومت کے خلاف سازش ہوئی ہے، ان کی حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی، ہم نے ڈنکے کی چوٹ پر انہیں اقتدار سے نکالا ہے، ہم نے انہیں گریبان سے پکڑ کر اقتدار سے باہر کیا ہے۔’ملک کے خلاف کوئی سازش ہے تو اس کا نام عمران خان ہے‘ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج عمران خان کو آزادی یاد آگئی، ہمیں ان کی آزادی کی حقیقت معلوم ہے، وہ آزادی نہیں آوارگی چاہتے ہیں، ان کے جلسے دیکھنے کے بعد بھی کیا قوم نہیں جانتی کہ وہ آادی کے نام پر فحاشی اور آوارگی چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خان ہماری معاشی اقدار کو ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ ہمارے نوجوانوں کو بزرگوں کے خلاف کھڑا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے اپنے گھر کی حفاظت کرنی ہے، ہم نے اپنے نوجوان کو اسلام، اپنی اقدار، بڑوں کی فرمانبرداری کا راستہ دکھانا ہے، ہم مغربی تہذیب کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے صرف معاشی اور سیاسی عدم استحکام ہی پیدا نہیں کیا بلکہ انہوں نے پاکستان کے آخری حصار، ہماری دفاعی قوت کو بھی تقسیم کرنے اور آپس میں لڑانے کیکوشش اور سازش کی ہے، اگر ملک کے خلاف کوئی سازش ہے تو اس کا نام عمران خان ہے، اس کے خلاف کوئی اور سازش نہیں ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل عمران خان نے پنڈی میں جلسہ کیا، دعوے کیے تھے 10 لاکھ لوگ جلسے میں لاؤں گا، کہتے تھے کہ اسلام آباد آؤں گا، کیوں نہیں آئے اسلام آباد، کہتے ہیں اسلام آباد آتا تو تباہی مچ جاتی، میں کہتا ہوں کس کی تباہی مچ جاتی، اگر وہ آتے تو ان کی تباہی مچ جاتی، وہ اسلام آباد پھر آکر دکھائیں، کہا تھا کہ 10 لاکھ لوگوں کو اکٹھا کروں گا، صرف 10 ہزار لوگ جمع کرسکے، ان میں کئی ہزار سرکاری ملازمین کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ جلسے میں شرکت کریں .
Load/Hide Comments



