صوبے کے سرکاری کالجوں کے طلبہ و طالبات کو انصاف تعلیم کارڈ کے ذریعے مفت تعلیم صوبائی حکومت کاانقلابی فیصلہ ہے،وزیر اعلی محمود خان

پشاور(آن لائن)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے کے سرکاری کالجوں بشمول کامرس کالجزمیں زیر تعلیم لاکھوں طلبہ و طالبات کو انصاف تعلیم کارڈ کے ذریعے مفت تعلیم دینا صوبائی حکومت کاانقلابی فیصلہ ہے جس کے تحت سیلاب زدہ علاقوں سمیت پورے صوبے کے طلباء طالبات کو داخلہ اور ٹیوشن فیسیں معاف کی گئیہیں۔ وزیر اعلی نے سکولوں، کالجز اور ہسپتالوں سمیت دیگر مکمل شدہ اور تکمیل کے قریب سرکاری منصوبوں کے لیے متعلقہ عملے کی منظوری میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایسے منصوبوں کے حوالے ایس این ایز ایک ہفتے کے اندر بھیجنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مکمل شدہ اداروں میں عملے کی بروقت تعیناتی ہو اور ان سے عوام مستفید ہوں۔ وزیر اعلی نے قومی تعمیر کے محکموں کے کاموں کو شفاف تر بنانے کے لیے ان کو ای ٹینڈرنگ پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کی بھی ہدایت کی۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے صوبائی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کابینہ کے ارکان، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ کابینہ میں۔لئے گئے فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اعلی تعلیم کے صوبائی وزیر کامران بنگش اور اطلاعات و تعلقات عامہ کے لیے وزیر اعلی کے معاون خصوصی بیرسٹر محمدعلی سیف نے کہا کہ انصاف صحت سہولت کارڈ کے بعد انصاف تعلیم کارڈ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کا دوسرا فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ صوبائی ابینہ نے صوبے میں غربت اور عوام کی مالی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبے کے تمام بوائزاور گرلز سرکاری کالجز بشمول کامرس کالجز میں طلباء و طالبات کو داخلہ اور ٹیوشن فیس کی معافی کیلئے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو انصاف تعلیم کار ڈ کیلئے998.500 ملین روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی۔اس سے صوبے کے 274 زنانہ و مردانہ کالجز کے 2لاکھ 44ہزار 858طلبا ء و طالبات کو تعلیمی سال 2022-23ء کے فیس معاف ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی کا بینہ نے محکمہ ما حولیات کو پارے (Mercury) اور پارے کی مرکبات سے خارج ہونے والی آلودگی کی روک تھام کے حوالے سے مناٹا کنونشن آن مرکری (Minata Convention on Mercury) کو ماحویات کے تحفظ کے قانون 2014کے شیڈول میں شامل کرنے کے لیے شیڈول میں ترمیم کی اجازت دیدی۔