اسلام آباد(آن لائن)وزیر دفاع خواجہ آصف نے نئے آرمی چیف اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی تقرری کے لئے وزیراعظم ہاؤس کو سمری موصول ہونے کی خبروں کی تردیدکردی او ر کہا کہ میڈیا میں جو اس وقت چل رہا ہے وہ درست نہیں،سمری وزارت دفاع سے آئندہ ایک دو روز میں بھجوا دی جائے گی،پاک فوج کے اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرری کا عمل آج سے شروع ہوگیا ہے،نئے سپہ سالار کے لئے ناموں پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اعتماد میں لیکر فیصلہ کیا جائیگا۔پیر کے روزوزیر اعظم شہبازشریف سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اس وقت مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں اور انہوں نے روزمرہ کے سرکاری امور کی انجام دہی شروع کر دی ہے، پاک فوج کے اعلیٰ عہدوں پرتقرری کا عمل آئینی تقاضوں کے مطابق جلد مکمل ہوجائے گا،اس وقت پاک فوج کے اعلیٰ ترین عہدوں پر تقرری کا عمل آج سے شروع ہوگیا ہے،25 نومبر تک آرمی چیف کی تقرری کا عمل مکمل ہوجائے گا۔میڈیا جو اس وقت چلا رہا ہے وہ درست نہیں ہے،سمری تاحال وزارت دفاع کی جانب سے نہیں بھجوائی گئی،میری معلومات کے مطابق سمری ایک دو روز میں بھجوائی جائے گی،سمری میں 5 یا 6 نام ہوں گے تو ڈوزئیر بھی ان کے ساتھ آئیں گے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری سے متعلق کوئی پریشر نہیں ہے۔سمری آئے گی تو ناموں پر بحث ہوگی۔ سینئر موسٹ 5 یا 6 نام آجائیں گے انہی میں سے فائنل ہوجائے گا۔ آرمی چیف کی تقرری کے عمل پر کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہے۔اتحادیوں کے ساتھ ہر سطح پر تبادلہ خیال ہورہا ہے۔واضح رہے کہمختلف نجی چینلز نے دعوی کیا ہے کہ وزارت دفاع کی جانب سے نئے آرمی چیف کے لئے پانچ ناموں کی سمری وزیر اعظم ہاؤس کو بھجوا دی گئی ہے،سمری میں لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے نام شامل ہیں۔
Load/Hide Comments



