اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور سردار ایازصادق نے کہا ہے کہ عالمی بینک کی امداد پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ انہوں نے پاکستان کے لیے سیلاب سے متعلق امداد پر عالمی بینک کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا ”ہمیں عالمی بینک کی ٹیم کی طرف سے بہت معاونت حاصل ہے۔تفصیل کے مطابق وفاقی وز یر سردار ایاز صادق نے وزارت اقتصادی امور میں عالمی بینک کے جنوبی ایشیا، پائیدار ترقی (ایس ڈی) کے ریجنل ڈائریکٹر، جان اے روم اور عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر، ناجی بنہاسین کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ اقتصادی امور کے وزیر نے عالمی بینک کو ان بڑے ترقیاتی شراکت داروں میں سے ایک ہونے پر سراہا جس نے 1950 کی دہائی سے پاکستان کو خاطر خواہ مالی امداد (31.1 بلین امریکی ڈالر) فراہم کی ہے۔“انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بینک کی مداخلتیں معیشت کے تمام بڑے شعبوں بشمول انفراسٹرکچر، زراعت، دیہی اور شہری ترقی، انسانی سرمایہ، سماجی خدمات کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی کا احاطہ کرتی ہیں۔ریجنل ڈائریکٹر جان اے روم نے بھی اقتصادی امور کی وزارت کی فراہم کردہ سہولیات اور فعال کردار کو سراہااورسیلاب کے بعد بحالی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں میں معاونت کے لیے عالمی بینک کے پائپ لائن منصوبوں پر بھی تبادلہ خیالبالخصوص صوبہ سندھ و بلوچستان میں اور دیگر صوبوں کے ساتھ موثر رابطہ کاری کے ذریعے ان منصوبوں پر عمل درآمد کے فروغ پر اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت نے معاہدوں پر دستخط کرنے کی سہولت فراہم کرنے سے اپنے کردار کو تبدیل کر کے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ منصوبوں کی نگرانی کی جائے اور فنڈز کا بہترین استعمال کیا جائے۔ انہوں نے ریجنل ڈائریکٹر کو آگاہ کیا کہ وزارت غیر ملکی فنڈڈ پراجیکٹس پر قومی رابطہ کمیٹی اور سیلاب سے متعلق امدادی سرگرمیوں کے لیے بین الاقوامی امداد کے حوالے سے اسٹیئرنگ کمیٹی برائے رابطہ کے مسلسل اجلاسوں کے ذریعے منصوبوں کی نگرانی کر رہی ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری اقتصادی امور ڈویڑن نے منصوبوں کی تاخیری منظوریوں اور ان پر عمل درآمد کو آگے بڑھانے میں وزارت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے منصوبوں کو تین زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ – تسلی بخش، غیر تسلی بخش اور مسائل سے دوچار پروجیکٹس، جبکہ وزارت کی خصوصی توجہ مسائل والے پروجیکٹوں پر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت منصوبوں پر تیزی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عالمی بینک کی ٹیم کے ساتھ فعال طور پر کام کر رہی ہے۔ ملاقات کا اختتام دونوں جانب سے شکریہ کے ساتھ ہوا۔
Load/Hide Comments



