ریکوڈک منصوبہ،چیف جسٹس کا باقاعدہ اتھارٹی اور پالیسی بنانے کا مشورہ

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریکوڈک صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر حکومت کو ریکوڈک منصوبے پر باقاعدہ اتھارٹی اور پالیسی بنانے کا مشورہ ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ ریکوڈک منصوبے کا پچھلا معاہدہ مخصوص کمپنی کے لیے رولز میں نرمی دینے پر کالعدم ہوا،ریکوڈک منصوبے میں دی جانے والی چھوٹ اور رولز میں نرمی کو پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے،اگر ایک بار پالیسی بن جائے گی تو عدالت کے لیے فیصلہ کرنے میں آسانی ہو گی،تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ملک کی یکساں پالیسی سے شفافیت آئے گی،حکومتی وکیل ابھی تک مطمئن نہیں کر سکی کہ ایک مخصوص کمپنی کے لیے حکومت نئی قانون سازی کیوں کر رہی ہے؟بار بار یہ کہہ کر ڈرایا جا رہا ہے کہ ریکوڈک منصوبہ 15 دسمبر تک طے نا ہوا تو 10 ارب ڈالر کا بوجھ پڑ جائے گا، حکومت بلوچستان کوئی بہت مضبوط اتھارٹی نہیں ہے،دیکھنا ہو گا ریکوڈک معاہدہ اور اس کے بعد پورے منصوبے کی نگرانی کون کرے گا؟سی پیک کی طرز کی ایک اتھارٹی بننی چاہئیے جو ریکوڈک منصوبے کا جائزہ لیتی رہے،دوبارہ ریکوڈک منصوبے کو تباہ ہونے نہیں دینا چاہتے،ریکوڈک معاہدے میں ملک پر ابھی بھی 4.5 ارب ڈالر کا بوجھ ہے،حکومت ایک معاہدے کی آسانی کے لیے رولز میں تو نرمی کر سکتی ہے لیکن اپنا معیار نہیں گرا سکتی،ریکوڈک سے ملحقہ علاقوں میں آبادی کے حقوق بھی متاثر نہیں ہونے چاہیں۔