راولپنڈی(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان پر قاتلانہ حملے اور ایف آئی آر کے اندراج کیلئے ملک بھر کی طرح راولپنڈی میں بھی مختلف مقامات پر پی ٹی آئی کے کارکنان نے احتجاج کیا کارکنان نے شمس آباد مری روڈ، پیرودھائی موڑ، گلزار قائد، روات، ٹھلیاں انٹر چینج اور ٹیکسلا سمیت مختلف مرکزی شاہراہوں پر احتجاج کیا اور ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردی، اس موقع پر کارکنان عمران خان سے اظہار یکجہتی، وفاقی حکومت کے خلاف نعرکرتے رہے۔دن 12 بجے اچانک سڑکیں بلاک ہونے سے بدترین ٹریفک جام ہوگیا۔جبکہ تعلیمی اداروں میں چھٹی کے اوقات میں طلبہ و طالبات کو گھروں میں پہنچنے پرجبکہ شہر کے تینوں ہسپتالوں میں تشویشناک مریضوں کو پہنچانے کیلئے چلنے والی ایمبولنسز بھی ٹریفک جام میں پھنسی رہی، بی بی ایچ پہنچنے والے مریضوں کی بڑی تعداد بھی ٹریفک جام کے باعث پیدل جانے پر مجبور ہوئی شمس آباد میں وزیر اعلی پنجاب کے ترجمان فیاض الحسن چوہان، رکن صوبائی اسمبلی راجہ راشد حفیظ،میٹروپولیٹین کے صدر عمران حیات، عارف عباسی، راجہ ماجد و دیگر نے مظاہرین کی قیادت کی گلزار قائد پر رکن صوبائی اسمبلی چوہدری امجد، پوٹھوار ٹاون کے صدرساجد قریشی،پیرودھائی موڑ پر راجہ بشارت، ٹھلیاں ا نٹر چینج پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم، آصف محمود، روات میں راجہ کرم و صداقت عباسی، ٹیکسلا میں رکن قومی اسمبلی سرور خان نے قیادت کی۔پی ٹی آئی کی جانب سے راولپنڈی کے مختلف مقامات پر ایک ہی وقت میں ہونے والے احتجاج اور سڑکوں کو بلاک کرنے کی وجہ سے ٹریفک مکمل جام ہوگئی، راولپنڈی کو اسلام آباد سے ملانے والی مرکزی شاہراہ مری روڈ، جڑواں شہروں کے سنگم میں واقع آئی جے پی روڈ اور پیرودھائی موڑ پر احتجاج کے باعث عوام بری طرح ٹریفک جام میں پھنس گئے،نیوکٹاریاں سے آئی جے پی جانے والی ٹریفک بھی دیگر مقامات کی طرح گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسی رہی۔ٹریفک پولیس کی جانب سے بھی اچانک اس صورتحال کے باعث ٹریفک کنٹرول کرنے میں ناکامی نظر آئی۔سکولوں و کالجوں میں چھٹی کے باعث طلبہ وطالبات بالخصوص بچے ٹریفک جام میں شدید متاثر ہوئے۔احتجاجی مقامات پر کارکنوں کو گرم رکھنے کیلئے پی ٹی آئی کی جانب سے ترانے چلائے جاتے رہے۔احتجاج میں پی ٹی آئی کے نوجوانوں کے ساتھ بزرگوں، بچوں، اور بڑی تعداد میں خواتین نے بھی شرکت کی۔شمس آباد کے مقام پر زینت اللہ نامی ایک کارکن بجلی کے کھمبے پر چڑھتے ہوئے تاروں سے ٹکرا گیا،جس سے اسکے کپڑوں میں آگ لگ گئی، جس سے وہ کھمبے سے گر گیا۔جسکو زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں اسکی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔قائدین کی جانب سے تقاریر میں گیا کہ احتجاج و دھرنا 72 گھنٹے جاری رہے گا۔جب تک عمران خان کے خلاف حملہ میں ملوث ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوجاتا کارکنان گھروں کو نہیں جائیں گے۔شہر کے مختلف مقامات پر احتجاج رات گئے تک جاری رہا۔پی ٹی آئی میٹروپولیٹن کے صدر عمران حیات سے رابطہ پر بتایا کہ شمس آباد مری روڈ پرمسلسل احتجاج کیلئے تین شفٹوں بنا دی گئی ہیں،مختلف قائدین صبح،دن اور رات کو احتجاج کے مقامات پر کارکنوں کے ہمراہ ہونگے۔مطالبات کے منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔جبکہ لانگ مارچ کے روانہ ہونے پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا.
Load/Hide Comments



