پی اے سی کانٹوں کی سیج ہےبطور چیئرمین مجھ پر بہت دباؤ ہے،نور عالم خان

اسلام آباد(آن لائن)پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان کا کہنا ہے کہ احتساب کے حوالے سے پی اے سی کو چلانا کانٹوں کی سیج ہے کیونکہ بااختیار اور طاقت ور احتساب سے خود کو مبرا ہی سمجھتے ہیں،مجھ پر بطور چیئرمین پی اے سی بہت دباؤ ہے لیکن میں یہ دباؤ برداشت کرتا ہوں اور کوئی سفارش قبول نہیں کرتا۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ اربوں روپے کے عدالتوں میں زیر التواء کیسز ہیں،آئندہ آنے والے دنوں میں بہت سے سکینڈل سامنے آئیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔نور عالم خان کا کہنا تھا کہ پی اے سی کو چلانا آسان نہیں مگر انہوں نے اس اہم ترین فورم کو عملی طور پر ادارہ جاتی احتساب کے لئے استعمال کیا ہے اور ہمارے اختیارات واضح ہیں ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان کے اختیارات کا بھی اتنا ہی احترام کیا جائے جتنا دوسروے اداروں کے اختیارات کا کیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب سے وہ سیاست میں آئے ہیں ان کے اثاثوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے سیاست میں آنے کے بعد اثاثے بڑھے ہیں،ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہے کہ عوامی مسائل کو زیادہ سے زیادہ سرکاری اداروں اور بیورو کریسی کے سامنے رکھا جائے اسی لئے انہوں نے گاڑیوں کا معاملہ اٹھایا جن کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں،اسی طرح طورخم بارڈر پر گرین چینلز کا غلط استعمال ہو رہا ہے اس کا نوٹس لیا ہے،وفاقی دارالحکومت میں بہت ہی ہاؤسنگ سوسائٹیز غیر قانونی ہیں اس کا نوٹس لیا ہے تا کہ عوام کا پیسہ نہ ڈوبے،ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے قواعد وضوابط کے مطابق کسی کو بھی طلب کر سکتے ہیں،دستاویزات منگوا سکتے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اپنے اختیارات سے تجاوز نہیں کیا اور چاہتے ہیں کہ باقی ادارے بھی پارلیمانی اختیارات کا احترام کریں۔انہوں نے انکشاف کیا کہ بہت سے آڈٹ پیراز ایسے ہوتے ہیں کہ لوگ ان کے خاندان کے ذریعے بھی ان سے سفارشیں کرواتے ہیں مگر وہ کوئی سفارش قبول نہیں کرتے نہ ہی کریں گے۔یہ بھی کہا کہ ان کو وفاقی وزیر کا صرف درجہ ملا ہے وہ وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی مراعات بڑھیں ہیں،انہوں نے کہا کہ ایسے کیسز بھی پی اے سی نے کھولے ہیں جن کو بند کر دیا تھا اور آنے والے دنوں میں سب کو پتہ چل جائے گا کہ ان کیسز کو کیوں بند کیا گیا تھا،انہوں نے کہا کہ ان کا دفتر میڈیا کے لئے ہمیشہ کھلا ہے ان کے پارلیمانی صحافیوں سے اچھے تعلقات ہیں اور یہ بات خوش آئند ہے کہ پی اے سی کی کوریج کے دوران بھی پارلیمانی رپورٹرز اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کرتے ہیں۔