عوامی نمائندوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے،عبدالقدوس بزنجو

کوئٹہ(آن لائن) وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے اسمبلی کے اجلاس مین اظہار کیال کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اراکین اسمبلی کو فراہم کی گئی سیکورٹی ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد واپس لی گئی تھی جس پر ہائیکورٹ سے بات چیت جاری ہے یہ مسئلہ ایک ہفتے میں حل کردیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اچانک وفاقی لیویز کو صوبے کے حوالے کیاصوبائی حکومت فی الفور انہیں تنخواہیں دے گی جبکہ اس مسئلے پروفاق سے بات کی ہے کہ ہمارے مالی حالات بہتر نہیں ہیں امیدہے کہ وزیراعظم اس پر غور کرکے مسئلہ حل کریں گے۔وزیراعلی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ جہاں گنجائش ہو وہاں بہتری لائی جائے سیلاب ہمارے لئے اللہ کی طرف سے کڑا امتحان بن کرآیا ہے اس میں بھی اللہ کی کوئی حکمت ہوگی بلوچستان آدھا پاکستان ہے اور جب یہ سیلاب میں ڈوبا ہوا تھا تو انتظامیہ کی تمام اہلکاروں نے دن رات ایک کرکے تین ماہ تک سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کیا ہم ریلیف کے کاموں میں حصہ لینے والے افسران،اہلکاروں،صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر عملے کی حوصلہ افزائی کیلئے تقریب منعقد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام نے مشکل وقت میں صبرو تحمل اوربرداشت سے کام لیاانہیں جو کچھ ملا وہ انہوں نے لیا۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیلاب کی صورتحال کو دیکھ کر ہم اپنا غم بھول گئے کیونکہ وہاں بڑے پیمانے پرتباہی ہوئی قوموں پر امتحانات آتے ہیں و ہ انکا مقابلہ کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اور وزیراعظم کے متعدد دوروں سے ہمارا حوصلہ بھی بلند ہواوزیراعظم نے بلاشبہ بلوچستان کیلئے سیلاب میں جس طرح کام کیا ہم انکے شکر گزار ہیں اگر کوئی اور ہوتا تو کوئٹہ سکھر شاہراہ ایک ماہ تک بھی بحال نہیں ہوتی لیکن وزیراعظم نے تمام متعلقہ حکام کو پابند کیا اوراس شاہراہ کو ایک ہفتے میں کھلوایا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کیلئے وفاقی محکموں میں جو تعاون کیا ہے یہ انکی محبت کا اظہار ہے ہمیں اچھے کاموں کو ضرور سراہانا چاہئے۔وزیراعلی نے کہا کہ اب ہم بحالی کی طرف جارہے ہیں یہ مشکل وقت ہے جس کا مقابلہ ہم ایک قوم کی طرح کام کرکے کریں گے ابتک ریلیف کے کسی بھی کام میں کرپشن کی شکایت نہیں آئی صوبے میں شاہراہوں کو جلد از جلد بحال کیا گیاہم اس امتحان میں اپنے عوام کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتے صوبے کے ایک ایک نقصان کا ازالہ کرنا تو ممکن نہیں لیکن ہم عوام کو بے یارومددگار نہیں چھوڑیں گے صوبائی حکومت سے جس حد تک ممکن ہوگا وہ سیلاب متاثرین کی مدد کریگی۔ انہوں نے کہاکہ ہم ایسے مکانات کا ماڈل بنانے کی طرف جارہے ہیں جو قدرتی آفات کا مقابلہ کرسکیں پی یس ڈی پی بھی ترقیاتی ضرورت ہے اس پرکوئی کٹ نہیں لگایا جارہا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مکانات کی تعمیر،زرعی زمینوں کی بحالی،بندات،انفراسٹرکچرکی تعمیر کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ 16ارب کی لاگت سے زمینداروں کو بیج فراہم کررہے ہیں تاکہ فوری طورپر وہ اناج اگاسکیں ابتک سیلاب میں جتنے بھی لوگ جاں بحق ہوئے انکے اہل خانہ کو 20،20لاکھ روپے معاوضہ ادا کردیا گیا ہے پی ڈی ایم اے کی کارکردگی بھی قابل تعریف رہی ہے۔