اسلام آباد(آن لائن) تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف چاہتی ہے کہ سائفر معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ آف پاکستان کرے۔ اگر ‘امپورٹڈ حکومت’ سائفر معاملے پر سپریم کورٹ کا بینچ بنوا دے تو پارلیمنٹ میں واپسی کا سوچا جا سکتا ہے،چیف جسٹس کے مشورے کا شکریہ، لیکن سیاسی فیصلے عدالتیں نہیں سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔اسلام آباد میں وائس آف امریکہ ن کودیے گئے انٹرویو میں انہوں نے نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے اس دعوے کو رد کر دیا کہ سائفر کی تحقیقات ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے نزدیک تو سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری بھی مکمل ہو چکی ہے۔ایک سوال پر اْن کا کہنا تھا کہ عمران خان دو تہائی اکثریت کے بعد ہی اب پارلیمنٹ میں واپس آئیں گے، لیکن اگر ‘امپورٹڈ حکومت’ سائفر معاملے پر سپریم کورٹ کا بینچ بنوا دے تو پارلیمنٹ میں واپسی کا سوچا جا سکتا ہے۔ عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے اعلان کے باوجود اس کے التوا کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بابر اعوان نے کہا یہ سیاسی حکمتِ عملی کے تحت ہی ہوتا ہے کہ کون سے فیصلے کا کب اعلان کیا جانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی سربراہی میں لانگ مارچ کے حوالے سے اعلی قیادت کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری ہے اور اس حوالے سے فیصلے کر رکھے ہیں۔ انہوں نیکہا کہ ” دیر نہیں ہے(لانگ مارچ میں)، الیکشن کے لیے آخری احتجاج، آخری جلسہ یا آخری دھرنا اس میں سے فیصلہ عمران کریں گے۔
Load/Hide Comments



