پا کستان کو نوجوان ہی تبدیل کر سکتے،مصطفی کمال

کراچی(آن لائن) پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مسائل پر تو سب بات کرتے ہیں لیکن مجھے ایڈمنسٹریشن چلانے کا تجربہ ہے اس لیے زمینی حقائق کے مطابق مسائل کا حل تجویز کرتا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی یوتھ ماڈل یونائیٹڈ نیشن کے تحت میریٹ ہوٹل کراچی میں نوجوانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کراچی سے کشمیر تک ملک میں انقلابی بہتری کے لیے تین آئینی ترامیم تجویز کی ہیں جن پر عمل درآمد سے پاکستان کے 95 فیصد مسائل حل ہو جائیں گے۔ پہلی آئینی ترمیم کے تحت مئیر کے محکمے آئین میں درج کیئے جائیں تاکہ کوئی وزیر اعلیٰ آرٹیکل اے کی اپنی مرضی سے تشریح نہ کر سکے؛ چونکہ 18ویں ترمیم کے بعد ایک وزیر اعلیٰ پورے صوبے کے وسائل پر قابض ہے اس لیے گٹر لائنوں تک کے پیسے صوبائی حکومت کے قبضے میں ہوتے ہیں اس لیے دوسری ترمیم کے تحت این ایف سی ایوارڈ کی طرز پر پی ایف سی ایوارڈ کا اجراء یقینی بنایا جائے۔ تیسری آئینی ترمیم کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کو بلدیاتی انتخابات سے مشروط کیا جائے تاکہ کوئی آمرانہ سوچ رکھنے والا کوئی حکمران عوام کے حقوق غضب نہ کر سکے۔ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے بے تحاشہ تباہی ہوئی، ان حالات میں امدادی سرگرمیوں کے لیے صحیح معلومات کا آنا بہت ضروری ہے جبکہ سندھ میں کوئی عوامی نمائندہ ہی گراؤنڈ پر موجود نہیں بلکہ ایک ڈی سی اپنے کمرے میں بیٹھ کر لوگوں سے ملے بغیر جو رپورٹ تیار کر رہا ہے اس کی بنیاد پر پورا ایکشن پلان ترتیب دیا جا رہا تھا جو بد انتظامی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ریاست ضرورت مند تک بغیر بلدیاتی نظام کے رسائی حاصل کر ہی نہیں سکتی تو درست ریلیف ممکن نہیں۔ پاکستان کو نوجوان ہی تبدیل کر سکتے ہیں، پاک سر زمین پارٹی سب سے زیادہ نوجوانوں کو موقع فراہم کر رہی ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ سیاست میں آئیں اور اس سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں ورنہ نا اہل اور کرپٹ لوگ ہم پر حکمرانی کرتے رہیں گے۔