محض اختیار کا غلط استعمال کرپشن میں نہیں آتا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب افسران کے خلاف ریفرنس خارج کر دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نیب کے تین افسران کی بریت کیس کی سماعت کی۔دوران سماعتچیف جسٹس نے کہا کہ محض اختیار کا غلط استعمال کرپشن میں نہیں آتا،افسران کا مس کنڈکٹ تھا تو یہ ڈیپارٹمنٹل ایشو تھا، کیا نیب کے پاس اختیار ہے کہ اپنے آرڈیننس کو چھوڑ کر لوگوں کو خوار کرتا رہے؟بہت بڑا نقصان بھی ہو گیا ہو اگر کرپشن نہیں ہے تو جرم نہیں بنتا،افسران پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں تو پھر ان پر ریفرنس کیسے بنتا ہے؟اس کیس میں تو نقصان کا الزام بھی نہیں،صرف مس کنڈکٹ کا کیس ہے، کیا ان کیسز کے تحت اتنی مشکل کا سامنا کرنے والوں کا ازالہ کیا ہے؟ ان پرہرجانے کا دعوی کرنا چاہیے۔عدالت تینوں سابق افسران کی بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے نیب کا اپنے ہی افسران کے خلاف ریفرنس خارج کر دیا۔یاد رہے عدالت نے سابق ڈی جی خورشید انور بھنڈر، صبح صادق اور ڈپٹی ڈائریکٹر مرزا شفیق کے خلاف ریفرنس کالعدم قرار دیا،تینوں افسران کے خلاف نیب راولپنڈی نے اختیارات کے غلط استعمال کا ریفرنس دائر کر رکھا تھا۔