بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پاس معذور افراد کے بارے میں بہتر ڈیٹا بیس موجود ہے،شازیہ مری

کراچی(آن لائن) وفاقی وزیرِ برائے محکمہ تخفیف غربت اور سماجی تحفظ شازیہ عطا مری نے کہاہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پاس معذور افراد کبارے میں بہتر ڈیٹا بیس موجود ہے اور اس ڈیٹا بیس کے ذریعے ہم خصوصی افراد کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مختلف پروگراموں میں شامل کرتے ہوئے انہیں بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔بی آئی ایس پی اپنے سماجی تحفظ کے پروگراموں میں مختلف معذور افراد کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور کم سے کم امتیاز کو یقینی بناتا ہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حالیہ جاری قومی سماجی اقتصادی رجسٹریشن سروے کے ڈیسک بیسڈسروے کے دوران مختلف معذور افراد کو ڈیٹا اکٹھا کرنے کے مراکز کے دورے پر انہیں خصوصی ترجیح اور سہولیات دی گئی ان کیلئے ایک علیحدہ رجسٹریشن ڈیسک قائم کرکے انہیں سینٹر کے عملے کی جانب سے بہتر سہولیات مہیا کیے گئے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے کراچی کے آئڈا رو اسکول فار بلائنڈ اینڈ ڈیف میں آئڈا رو ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام سماعت اور بینائی سے محروم افراد کی اعلیٰ تعلیم کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کے لیے منعقدہ ایک کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی صادق علی میمن اور دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا کہ آج مجھے اس سماعت اور بینائی سے محروم طلباء کی اعلیٰ تعلیم کے روڈ میپ کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت کرکے بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں، یہ کانفرنس بہرے پن کے شکار لوگوں کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے امکانات اور طریقوں کو تلاش کرنے کیلئے منعقد کی گئی ہے۔ میں آئڈا رو ایسوسی ایشن Ida Rieu کو اس قسم کے شاندار اقدام اٹھانے اور متعلقہ علم اور مہارت کے حامل لوگوں کو ایک ایسے موضوع پراکٹھاکرنے جسے عام طور پر ترجیح نہیں دی جاتی ہے پر خراج تحسین اور مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بتایا کہ ہم خصوصی افراد کے متعلق کچھ عالمی کنونشنوں کے سنگنیٹریز بھی ہیں جیسے کہ اقوام متحدہ کا سی آر پی ڈی پروگرام جو کہ دسمبر 2006 میں منظور کیے گئے جو مختلف ممالک میں خصوصی کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے رہنما فریم ورک کے طور پر کام کرتے ہیں۔ حال ہی میں، 2030 کا ایجنڈا برائے پائیدار ترقی، جو کہ 17 پائیدار ترقیاتی اہداف کے سیٹ پر مبنی ہے جس میں قومی ترقی کے اقدامات میں معذور افراد سمیت تمام کمزور اور پسماندہ آبادی کے طبقات کی مکمل اور مساوی شرکت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ شازیہ مری نے کہا بینظیرانکم سپورٹ پروگرام ایسے خصوصی افراد اور انکے خاندانوں تک کوریج کو یقینی بنانیکیلئے ایک علیحدہ پالیسی کا انتظام کیا گیا ہے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحق ہونے کے لیے ایک گھرانے کے لیے کٹ آف کا عمومی معیار 32 PMT ہے جبکہ ایسے گھرانوں کے لیے جن میں کم از کم ایک رکن معذور ہو ان کیلئے 5 پوائنٹس کی نرمی کرکے اسکور 32 سے 37 تک پی ایم ٹی کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے نظیر انڈر گریجویٹ سکالرشپ سکیم کے تحت معذور افراد کے لیے 2 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بے نظیر کفالت پروگرام میں معذور افراد کے گھرانوں کا اندراج کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ معذور افراد کے خصوصی شناختی کارڈ کی محدود دستیابی ہے۔