کراچی (آن لائن) شہر قائد میں سے ایک اور جدید بس سروس متعارف کرادی گئی۔تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے اورنج لائن بس سروس کا افتتاح کردیا، یومیہ کراچی کے پچاس ہزار شہری اورنج لائن سے استفادہ کرسکیں گے،بس کا کرایہ 20روپے مقرر کیا گیا ہے۔اس حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اورنج لائن(بی آر ٹی عبدالستار ایدھی) آج سے کراچی کے عوام کے لیے کھول دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اورنج لائن کراچی کے عوام کے لیے سندھ حکومت کا پروجیکٹ ہے،عوام کی مشکلات کا احساس ہے اسی لیے اس بس کا کرایہ کم رکھا گیا ہے، اور روزانہ کراچی کے ہزاروں شہری اس جدید پبلک ٹرانسپورٹ پروجیکٹ سے مستفید ہونگے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویژن پر عمل پیرا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیلاب اور بارشوں کی تباہ کاریوں کی وجہ سے اورنج لائن کی افتتاحی تقریب انتہائی سادگی سے منقعد کی جا رہی ہے، کراچی کے شہری کل سے جدید سفری سہولت سے مستفید ہو سکتے ہیں۔کراچی کے شہریوں کو سستی اور جدید سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے سال 2014 میں بی آرٹی یعنی بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کی بنیاد رکھی گئی۔ 2016 میں بی آر ٹی کے سب سے چھوٹے روٹ یعنی اورنج لائن بس منصوبے کا تعمیراتی کام شروع ہوا جسے 2017 میں مکمل ہونا تھا۔سن 2016 سے سن 2020 تک سندھ حکومت اورنج لائن کے ٹریک کی تعمیر اور اسے فعال کرنے کی کوشش کرتی رہی پھر وفاق کے ماتحت ادارے سندھ انفرااسٹریکچر ڈیویلپمنٹ کمپنی کو منصوبے میں شامل کرلیا۔دوبارہ کی جانے والی منصوبہ بندی کے بعد تعمیراتی کام کا تخمینہ ایک ارب چالیس کروڑ روپے سے بڑھ کر دو ارب بیس کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔بی آر ٹی اورنج لائن کے روٹ پر چلانے کے لئے چائنا سے 20 جدید بسیں منگوائی گئی ہیں، اورینج لائن بس منصوبہ چار کلومیٹر طویل ٹریک پر مشتمل ہے، جس پر چار بس اسٹیشن بنائے گئے ہیں۔ٹاون میونسپل آفس اورنگی ٹاون بس اسٹاپ سے سوار ہونے والے مسافر میٹرک بس اسٹیشن تک سفر کر سکیں گے۔جناح ویمن یونی ورسٹی پر اترنے والے مسافروں کو فی الحال گرین لائن کے بورڈ آفس بس اسٹیشن تک جانے کے لیے کر پیدل جانا ہوگا جس کے بعد وہ آگے کا سفر کرسکیں گے۔اس بس منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے سندھ حکومت نے فنڈ دیئے ہیں سندھ حکومت نے منصوبے کو فعال کرنے اور دیکھ بحال کیلیے سندھ انفراسٹرکچر کمپنی سے تین سال کا معاہدہ کیا ہے۔واضح رہے کہ گرین لائن بس منصوبہ بھی سندھ انفرااسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کمپنی کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔
Load/Hide Comments



