راولپنڈی (آن لائن)بین المذاہب ہم آہنگی کے لئے وزیراعظم کے مشیروپاکستان علما کونسل کے سربراہ علامہ طاہر اشرفی نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے فوری کمیشن تشکیل دیا جائے صدر پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے اور متاثرین کی بحالی کے لئے تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں فوج سے متعلق عمران خان کا بیان تشوشناک ہے عمران خان سمیت تمام سیاستدان یہ ذہن میں رکھیں کہ پاک فوج کا ہر سپاہی اور ہر جرنیل محب وطن ہے کسی کو نئے آرمی چیف کی تقرری بارے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں فوج میں تقسیم کی باتیں سازشی عناصر کررہے ہیں جب تک پاکستان کی فوج اور مذہبی طبقہ موجود ہے پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزراولپنڈی میں علما مشائخ کانفرنس سے خطاب میں کیاعلامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے فوج میں تقرریاں و تبادلے ہوتے رہیں گے فوج کا اپنا نظام ہے کسی سیاست دان کو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں فوج کا ہر جرنیل محب وطن ہے آرمی چیف کی تقرری کا وقت آئے گا تو وہ ہوجائے گا ملک کے سیاست دان اپنا کام کریں یہ عجیب منطق ہے کہ میں اقتدار میں ہوں تو سب جائز نہیں ہوں تو سب ناجائزہے صدر پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں ملک میں جاری سیلابی صورت حال پر سب کو بٹھائیں ملکر فیصلہ کریں اس صورت حال سے کیسے نکلیں انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ کمیشن بنائیں کہ یہ تباہ کاریاں کیسے ہوئی اور کیوں ہوئی 2010 میں اور پھر 2022 میں بھی پانی اسی جگہ پر آیا ہے آئین کی اسلامی دفعات اور ختم نبوت کے قانون کو کسی کا باپ بھی نہیں چھیڑ سکتا لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت سمجھانا ضروری ہے انہوں کہا کہ سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی اور غذائی قلت کا سامنا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں سب سے پہلے مساجد تعمیر کی جائینگی انہوں نے کہا سیلابی صورت حال میں صرف فوج اورپگڑی والے نظر آتے ہیں آج میرا جسم میری مرضی والے کہاں گئے؟متاثرہ علاقوں میں فوج نے 5دن میں پل تیار کیاانگریزوں کے بنے ہوئے پل آج بھی قائم ہیں لیکن دیگر تباہ ہو گئے آئین کی اسلامی دفعات اور ختم نبوت کے قانون کو کسی کا باپ بھی نہیں چھیڑ سکتادنیا کو بتائینگے پاکستان میں اقلیتیں باقی ممالک سے زیادہ محفوظ ہیں آئین پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق درج ہیں فوج اور مولویوں کے علاوہ دیگر لوگ کہاں گئے یہ لوگ جاکر سیلاب زدہ علاقوں میں تصویریں بناکر واپس آجاتے ہیں مبلغ کا کام جھگڑا کرنا نہیں ہوتا قوم کی رہنمائی ہوتا ہے جب تک پاکستان کی فوج اور مذہبی طبقہ موجود ہے پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، فوج میں تقسیم کی باتیں سازشی عناصر کررہے ہیں.
Load/Hide Comments



