اس وقت مہنگائی اپنے عروج کے قریب ہے، مفتاح اسماعیل کا اعتراف

کراچی (آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ مفتاع اسمٰعیل نے ایک بار پھر ملک میں مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت مہنگائی اپنے عروج کے قریب ہے، ر رواں مالی سال مہنگائی اوسطاً 15 فیصد رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں برسوں سے جاری بوم اینڈ بسٹ سائیکل (زیادہ شرح نمو اور پھر معاشی بحران) کو ختم کرنا چاہتا ہوں، ہمیں دہائیوں پرانے طور طریقوں کو بدلنا ہوگا تاکہ قوم کو اپنے وسائل میں رہنے کے سلسلے میں مدد دی جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی جریدے‘بلوم برگ’کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ درآمدی ادائیگیوں کو ڈالر کی وصولیوں کے مساوی ہونا چاہئے، جس کے لیے طویل عرصے تک پْرتعیش اشیا کی درآمدات پر پابندی ناگزیر ہے۔ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ میں ایک ایسے پاکستان کا خواہش مند ہوں جو اپنے وسائل میں رہ سکے تاکہ کسی ادارے سے قرض کی ضرورت ہی پیش نہ آئے، ایک سال میں کچھ نہیں کیا جاسکتا لیکن ہم کام شروع کرسکتے ہیں۔ مفتاح اسمٰعیل نے توقع ظاہر کی کہ بعض سرکاری کمپنیوں میں 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تقریباً ایک مہینے میں ہو جائے گی۔ مفتاع اسمٰعیل نے کہا کہ جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال کے دوران 3.5 فیصد کی معاشی شرح نمو متوقع ہے جبکہ گذشتہ سال اس کا تخمینہ 5 فیصد لگایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت گذشتہ 47 سال کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح زیادہ ہے جو ایشیائی ممالک میں دوسری سب سے بڑی شرح ہے تاہم یہ اپنی پیک پر ہے اور پیش گوئی کی کہ مہنگائی سال کے لیے اوسطاً 15 فی صد رہے گی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ سیلاب اور بارشوں کے باعث سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ کم ہو رہا ہکیونکہ وفاقی حکومت نے ہمسایہ ممالک سے ہنگامی بنیادوں پر سبزیوں کی درآمدات کے اقدامات کئے ہیں۔