مفتاح اسماعیل نے عوام کو سستی بجلی دینے کی نوید سنادی

کراچی(آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے عوام کو سستی بجلی دینے کی نوید سنادی اور کہا کہ حکومت کے پاس 13 ماہ، میرے پاس شاید اتنا وقت نہیں،پا کستان میں کوئی بھی ٹیکس دینا نہیں چاہتا، ہر ملک سے پیسہ مانگ رہے ہیں ہمیں دنیا میں جاکر قرض مانگنے میں شرم آتی ہے، نئے ٹیکس کے نفاذ میں غلطیاں ہوئی ہیں، حکومت سنبھالنے کے بعد فوراً آئی ایم ایف سے رابطہ کیا اور ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے 300 یونٹ والے فیول چارجز ختم کرنے کے فیصلے کا اطلاق ملک بھر میں ہوگااوروزیر اعظم کے 300 یونٹ فیول چارجز ختم کرنے کے فیصلے سے کے الیکٹرک مستثنیٰ نہیں ہے۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی(آئی بی اے) کے تحت ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے موضوع پر منعقدہ سیشن کے دوران ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی اے ڈاکٹر سید اکبر زیدی کے ہمراہ طلبائکے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگلے دو ماہ کے دوران انٹرنیشنل سطح پر فیول چارجز کم ہونگے تو ہم بھی عوام کو سستی بجلی دینگے۔ دنیابھر میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہمیں بلدیاتی انفراسٹرکچر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے نے اعتراف کیا کہ ماہانہ فکس ٹیکس 3 ہزار روپے لگایا تھا تاہم کمیونیکیشن گیپ کے باعث نئے ٹیکس کے نفاذ میں غلطیاں ہوئی ہیں وفاقی وزیر خزانہ نے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کے تاثر کو ایک بار پھر مسترد کردیا اور سوال کیا کہ عمران خان نے رواں سال 22 فروری سے 31 مارچ تک روس سے تیل کیوں نہیں خریدا؟،ہماری مجبوری ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیویز بڑھائی جائینگی۔انہوں نے کہا کہ فروری سے اپریل تک فارن ریزیرو 5ارب ڈالر تک کم ہوا،امپورٹ ایکسپورٹ 15فیصد ہے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17اعشاریہ 5ارب ڈالر ہے،مالیاتی خسارہ 5ہزار ارب روپے کا ہے،عمران خان کے دور میں 20ہزارارب کاقرض بڑھا.