وزیراعلیٰ محمود خان کا ضلع نوشہرہ اور چارسدہ کا دورہ، سیلاب سے نقصانات کا جائزہ لیا

پشاور(آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے منگل کے روز ضلع نوشہرہ اور چارسدہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور ریلیف کیمپس میں سیلاب متاثرین سے ملاقات کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیلاب کے باعث گھروں سے بے دخل ہونے والے افراد کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور سیلابی پانی ختم ہوتے ہی تباہ شدہ گھروں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے عمران خان پر مجرمانہ کیسز بنائے ہیں جس کی کوئی حقیقت نہیں، عوام عمران خان پربھرپور اعتماد کرتے ہیں، جس کا واضح ثبوت چند گھنٹوں میں ہی اربوں روپے اکٹھا ہونا ہے جو پورے پاکستان میں سیلاب زدگان پر خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تباہ شدہ مکانات، سڑکیں، پل اور فصلوں کا تخمینہ لگایا جارہا ہے جس کے مطابق صوبائی حکومت فنڈز ریلیز کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم عوامی نمائندے ہیں اور عوام کے درمیان رہ کر ان کی خدمت کریں گے۔ صوبائی حکومت کی گڈ گورننس پالیسی، ریسکیو 1122 کے قیام اور فلڈ پروٹیکشن والز کی تعمیرات کی وجہ سے حالیہ سیلاب سے نقصانات کم ہوئے ہیں۔انہی اقدامات کی بدولت کافی حد تک بچت ہوئی ہے ورنہ یہ سیلاب 2010 کے سیلاب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو میڈیکل ریلیف کیمپ میں فوری طور پر جنریٹر کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ متاثرین کو تمام تر سہولیات اور ریلیف کی فراہمی صوبائی حکومت کا اولین ہدف ہے اور اس مقصد کے لیے حکومت درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کر رہی ہے۔صوبائی حکومت ریلیف سرگرمیوں کے لیے ایک ارب روپے پہلے سے ریلیز کر چکی ہے جبکہ محکمہ ریلیف کو مزید 2.5 ارب روپے فراہم کئے جارہے ہیں جس کی صوبائی کابینہ باضابطہ منظوری دے چکی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو محکمہ ایریگیشن اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی طرف سے سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور ریلیف سرگرمیوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔