سیلاب سے متاثرہ سندھ میں شمالی علاقوں سے پانی کے مزید ریلے پہنچنے کا خدشہ

کراچی (آن لائن)سیلاب سے متاثرہ سندھ میں شمالی علاقوں سے پانی کے مزید ریلے پہنچنے کا خدشہ۔تفصیلات کے مطابق پہلے ہی سیلاب زدہ صوبہ سندھ شمال میں سیلابی ندیوں سے آنے والے ایک نئے سیلاب کی تیاری کررہا ہے جہاں مون سون سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگلے چند دنوں میں پانی کے ریلے سندھ تک پہنچ جائیں گے جس سے سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔سندھ کئی ہفتوں سے جاری موسلا دھار بارشوں کی زد میں ہے جس نے صوبے بھر کے کھیتوں میں پانی بھر دیا ہے لیکن اب شمالی علاقہ جات کے پہاڑوں سے آنے والے پانی کے ریلے انتہائی تیزی سے سے دریائے سندھ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور چند دن میں یہاں پہنچ جائیں گے۔جہاں سیلاب صوبے میں داخل ہونے کے لیے تیار نظر آتا ہے وہیں دوسری جانب سندھ کے لاکھوں لوگوں کی قسمت کا انحصار 90 سال پرانے بیراج پر ہے جو دریائے سندھ سے پانی کے بہاؤ کو دنیا کے سب سے بڑے آب پاشی نظام میں سے ایک کی طرف لے جاتا ہے۔سکھر بیراج کے سپروائزر عزیز سومرو نے کہا کہ اس وقت سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔دریائے سندھ کا پانی پہلے ہی کئی جگہوں پر کناروں سے باہر آرہا ہے اور جب تک سکھر بیراج بہاؤ کو کنٹرول نہیں کرتا، یہ تباہی کا باعث بنے گا۔یہ اصل میں لائیڈ بیراج کے نام سے جانا جاتا ہے جسے 1932 میں مکمل ہونے پر انجینئرنگ کا کمال تصور کیا جاتا تھا جو پتھر کے ستونوں کے درمیان لگے ہوئے 19 اسٹیل گیٹس کے ذریعے فی سیکنڈ 14لاکھ کیوبک میٹر پانی خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔وزیر برائے آبی وسائل خورشید شاہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس (بیراج) نے 90 سال مکمل کر لیے ہیں جب کہ اس کی 50 سال کی گارنٹی تھی، لہذا ہم اس کی ضمانت شدہ زندگی سے 40 سال آگے ہیں۔بیراج کیذریعے پانی کو تقریباً 10ہزار کلومیٹر کی نہروں کی ایک سیریز کی طرف منتقل کیا جاتا ہے جو کھیتوں سے گزرتی ہیں لیکن برسوں تک نظر انداز کیے جانے کے سبب وہ آج کے دنوں کے پانی کے ریکارڈ حجم سے نمٹنے کے قابل نہیں ہیں۔