اسلام آباد(آن لائن) پاکستان میں 18 سال سے زیادہ عمر کے 4 میں سے 1 پاکستانی کی دماغی صحت کسی نہ کسی موقع پرمتاثر ہوئی ہے جن کو مناسب علاج تک رسائی حاصل نہیں ہے۔نیشنل کمیشن فار ہیو من رائٹس نے تسکین ہیلتھ انیشیٹو (تسکین) کے اشراک اور یونائٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ کے تعاون سے دماغی صحت اور انسانی حقوق پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد دماغی صحت کی پالیسی، قانون سازی، لائسنسنگ، اہلیت اور اخلاقیات پر مبنی ذہنی صحت کی خدمات کی فراہمی کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنا تھا تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دماغی صحت کو لے کر کی جانے والی پیشہ ورانہ بددیانتی کے بارے میں شعور اجاگر کیا جاسکے جس کے نتیجے میں ذہنی صحت کے مسائل میں مبتلا افراد کو کئی طرح کی پر یشانیو ں کا سامنا تاہے۔رپورٹ کے مندرجات کو حاضرین کے سامنے پیش کرتے ہوئے این سی ایچ آرکی چیئر پرسن رابعہ جویری آغا نے کہاکہ ہمیں ذہنی صحت کے موضوع کے حوالے سے معاشرے میں پھیلے غلط خیالات کا سدباب کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس طرح کے مسائل پر کھل کر اور بلا امتیاز بات کر نا ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ذہنی صحت کے شعبے سے متعلق محدود قوانین و ضوابط کی بناء پر کوئی بھی شخص کسی جوابدہی کے بغیر ذہنی صحت سے متعلق مشاورت اور علاج کی پیشکش با آسانی کر سکتا ہے۔ جو معاشرے کے کمزور طبقات کے استحصال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور استحصال کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت کے شعبے کے بارے میں ضابطوں کی تشکیل اور اس میں پیشہ ورانہ اخلاقیات کا فروغ کرنا اشد ضروری ہے۔ اس موقع پر یواین ایف پی اے کے پاکستان میں نمائندے ڈاکٹر بختیور قادروف نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ جنسی تشدد کی روک تھام اور اس سے بچ جانے والوں کے حوالے سے تشکیل دئیے گئے پروگراموں میں ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت کو مرکزی مقام حاصل ہے۔اگرچہ اس شعبے میں مقامی تحقیق کی کمی ہے مگر اندازً 18 سال سے زیادہ عمر کے 4 میں سے 1 پاکستانی کی دماغی صحت کسی نہ کسی موقع پرمتاثر ہوئی ہے۔جن میں سے 80 فیصد سے زیادہ ذہنی صحت کی بحالی کی خدمات تک رسائی حاصل نہیں کر سکے۔ حقیقت اس کے بر عکس ہے یہ تعداد ممکنہ طور پر کم رپورٹ کی گئی ہے کیونکہ دماغی صحت کے امراض سے منسلک معاشرے میں پھیلے خیالات اور عوام میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کی کمی کے سبب ان امراض کا علاج نہیں ہو پاتا ہے۔ مزید برآں دماغی بیماریوں کا بوجھ متاثرہ افراد کو اپنی صلاحیتوں کے استعمال سے روکتا ہے۔ ان کی پیداواری صلاحیت گھٹ جاتی ہے۔اگر اس امر کا تخمینہ معاشی اثرات کے حوالے سے لگایا جائے تو قومی خزانے کیلئے یہ رقم 6.2 بلین امریکی ڈالر بنتی ہے۔
Load/Hide Comments



