کینیڈا اور پاکستان کے درمیان باہمی روابط کو فروغ دینے کے لیے پارلیمانی سطح پر رابطے ضروری ہیں، راجہ پرویز اشرف

اسلام آباد (آن لائن)اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کینیڈا اور پاکستان کے درمیان باہمی روابط کو فروغ دینے کے لیے پارلیمانی سطح پر رابطے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا میں مقیم پاکستانی ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کینیڈا میں کینیڈین ہاؤس آف کامنز کے سپیکر اینٹونی روکا سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے کی جانے انساپامالیوں کے خاتمے کردار ادا کرے۔انہوں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کینیڈا میں پاکستانی طلباء اور کینیڈا میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کے بارے میں گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ پاکستانی طلباء اور پاکستانی تارکین وطن ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں انہیں ویزوں کے حصول کے لیے درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھا ئے جائیں۔ انہوں پاکستانیوں کے لیے ویزا کے اجراء کے طریقہ کار کو آسان بنانے اور ویزہ آفس کو ابوظہبی سے اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کینیڈا کے لیے سفر کرنے والوں کو ویزا کے حصول کے لیے 110 دنوں کا انتظار کرنا پڑتا جسے 7 دنوں تک محدود کیا جائے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہونے والی شدید حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب کا ذکر کرتے ہوئے سپیکر نے کہا کہ پاکستان میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر قیمتی انسانی جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں پر قابو پانے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔سپیکر نے سری لنکا کے سپیکر مہندا ابے وردنا سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے سری لنکا کی پارلیمنٹ کی جانب سے جمہوریت کے دفاع اور معاشی بحران کے دوران سری لنکا کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے سری لنکا کی پارلیمنٹ کی جانے سے کی جانے والی کاوشوں کو سراہا۔ دریں اثناء سپیکر راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں پاکستان کے پارلیمانی وفد سیکرٹری جنرل کامن ویلتھ پارلیمانی ایسوسی ایشن سٹیفن ٹونگ، کینیڈا کے سینٹ کے اسپیکر جارج جے فیوری سے بھی ملاقاتیں کیں۔ دونوں رہنماؤں نے پارلیمانی رابطوں کو فروغ دینے اور باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔