اسلام آباد(آن لائن)وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر طبی عملہ بھجوانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ آفت کی اس گھڑی میں متاثرین کی بحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔جمعرات کے روز وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت ملک میں سیلابی صورتحال پر جائزہ اجلاس منعقد کیا گیا اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی نے متعلقہ حکام کو سیلاب زدہ علاقوں کے لئے سرکاری ڈاکٹرز کی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹرز کی ٹیم کو فوری طور پر متاثرہ خاندانوں کے علاج معالجے کیلئے بھیجا جائے انہوں نے کہاکہ آفت کی اس گھڑی میں غریب عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا اولین ترجیح ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں اوسط سے زیادہ بارشیں ہوئیں جس سے سندھ اور بلوچستان کے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے وزارت تجارت ملک کے تمام چیمبرز آف کامرس کو متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کیلئے فنڈز اکھٹا کرنے کیلئے متحرک کرے۔ وفاقی وزیر نے کہا ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لئے چاکنگ پوائینٹس کی شناخت کی جائے اور چاکنگ پوائنٹس پر پولیس اہلکار تعینات کر کے ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے۔ دریں اثناء و فاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے جمعرات کو آل پاکستان چائنیز انٹرپرائزز ایسوسی ایشن (اپیکا) کا شکریہ ادا کیا جس نے ملک میں حالیہ سیلاب کے پیش نظر وزیراعظم کے فلڈ ریلیف فنڈ میں 15.5 ملین روپے کا عطیہ دیا. وفاقی وزیر نے کہا کہ چین پاکستان کا دوست ہے جو ہر وقت کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہوتا ہے چاہے اس کی ایمرجنسی ہو یا آفات یا کوئی معاشی بحران۔ چینی کاروباری اداروں نے اپنی سماجی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے وزیر اعظم کے ریلیف فنڈ میں 15 ملین ڈالر عطیہ کیے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کے مصائب کا اعتراف کرنے کے لیے حجم کا اظہار کرتا ہے. اس موقع پہ چین کے سفیر بھی موجود اور چائینز انٹرپرائز کے اعلی حکام بھی موجود تھے. وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ بارشیں معمول کی مون سون بارشوں سے بہت زیادہ ہوئی ہیں جس میں صوبہ سندھ میں 400 فیصد سے زیادہ بارش ہوئی ہے جبکہ بلوچستان میں 370 فیصد بارش ہوئی ہے جس کی وجہ سے صوبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں.
Load/Hide Comments



