لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں نے مشکل ترین حالات میں لاکھوں انسانوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا۔ کرسی کی جنگ میں مصروف حکمران جماعتیں سیلاب متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑک رہی ہیں۔ محکمہ موسمیات کی پیشگی اطلاعات کے باوجود وفاقی و صوبائی حکومتوں نے لوگوں کی نقل مکانی اور سامان کی حفاظت کے اقدامات نہیں کیے۔ باپردہ خواتین سڑکوں پر آ گئیں،کھانے کے لیے روٹی، رہنے کے لیے چھت نہیں، مکانات پانی میں بہہ گئے، مویشی چارہ نہ ہونے کی وجہ سے بھوکے مر رہے ہیں۔ تین دن سے جنوبی پنجاب میں ہوں، ہزاروں خاندانوں کو دیکھا جو اپنے بچوں اور بہنوں بیٹیوں کے ساتھ کھلے آسمان کیے نیچے سونے پر مجبور ہیں۔ پانی سے مساجد شہید، قبرستان بہہ گئے۔ حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ سیلاب متاثرین پاکستانی ہیں، ٹیکس دیتے ہیں ان کی مدد کیوں نہیں کی جارہی، لوگوں کو بھیک نہیں اپنا حق چاہیے۔ حکومت فی الفور متاثرین کے نقصانات کے ازالہ کے لیے اقدامات کرے۔بجلی کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسز ختم اور ٹیرف کو کم کیا جائے۔ مہنگائی کے مارے عوام پر ماہانہ بل آفت بن کر نازلہیں۔ جماعت اسلامی نے سب سے پہلے مہنگے بلوں کے خلاف آواز بلند کی۔ آج جگہ جگہ مظاہرے ہو رہے ہیں، عوام اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ ظالمانہ ٹیکسز کو عدالتوں میں چیلنج، اوگرا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا گھیراؤ بھی کریں گے۔ عوام کے حقوق کے لیے چوکوں، چوراہوں، گلی کوچوں میں جدوجہد جاری رہے گی۔ جماعت اسلامی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی حکمرانوں کی عوام دشمن پالیسیوں کو ایکسپوز کر رہی ہے۔ عوام کے حقوق پر کسی قسم کا کمپورومائز نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ڈی جی خان، تونسہ اور راجن پور کے سیلابی علاقوں کے دورہ کے موقع پر متاثرین سے گفتگو اور مظفرگڑھ میں بجلی کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسز کی شمولیت کے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
Load/Hide Comments



