شریعہ کمپلائنٹ میکنزم سے متعلق مسائل پر بینکنگ سیکٹر کیساتھ مذہبی سکالرز کی میٹنگ کا انتظام کیاجائے،مفتاح اسماعیل

اسلام آباد (آن لائن) وزیر خزانہ مفتا ح اسماعیل نے سود سے پاک نظام کے نفاذ سے متعلق وزیراعظم کی ہدایت پر زور دیتے ہوئے علمائے کرام کی تجاویز کی توثیق کردی ۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے گذشتہ روز معروف اسلامی سکالر مفتی محمد تقی عثمانی، ڈاکٹر حسین اکبر، ڈاکٹر راغب نعیمی اور شیخ اظہر اقبال نے ملاقات کی۔ ملاقات میں بینکنگ سسٹم میں شریعت کے نفاذ اور پاکستان سے سود کے خاتمے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے دوران وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایس ای سی پی بھی موجود تھیں۔ سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری ای اے ڈی، سیکریٹری قانون و انصاف اور سینئر افسران نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔ ملاقات کے دوران ملکی اسلامک فنانس آپریشنز کی صورتحال، سپریم کورٹ کے حکم اور شریعت پٹیشن میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کا جائزہ لیا گیا۔ ملکی مالیاتی نظام میں شریعت کے نفاذ کے لئے مالیاتی شعبوں میں مزید وضاحت کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا مالیاتی نظام میں شریعت کے نفاذ کے لئے رہنمائی کی ضرورت ہے۔ معروف اسلامی سکالر مفتی محمد تقی عثمانی اور دیگر نے اسلامی مالیاتی نظام کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ سکالرز نے شرعی فنانسنگ کے ڈھانچے اور ایک فریم ورک وضع کرنے کے لئے اپنی تجاویز دیں۔اسلامی اسکالرز نے مالیاتی پالیسی اور اسلامی انٹربینک نظام کے لئے اسلامی خطوط پر بینکاری نظام کے نفاذ کی بھی تجاویز دیں۔ سکالرز نے تجویز دی وزارت خزانہ میں اسلامک فنانسنگ پر ایک الگ سیکشن بنایا جائے۔ وزیر خزانہ نے سود سے پاک نظام کے نفاذ سے متعلق وزیراعظم کی ہدایت پر زور دیتے ہوئے علمائے کرام کی تجاویز کی توثیق کی۔ وزیر خزانہ نے کہا شریعہ کمپلائنٹ میکنزم سے متعلق مسائل پر مزید رہنمائی اور وضاحت کے لئے بینکنگ سیکٹر کے ساتھ مذہبی سکالرز کی میٹنگ کا انتظام کیا جائے۔