سیاسی و عسکری قیادت کا ٹی ٹی پی کے ساتھ آئین کے اندر رہتے ہوئے مذاکرات پر اتفاق

اسلام آباد (آن لائن)سیاسی و عسکری قیادت نے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ آئین کے اندر رہتے ہوئے مذاکرات پر اتفاق کیکہناہے کہ اگر تحریک طالبان اپنی تنظیم تحلیل،پاکستان کا آئین تسلیم کرے تو مذاکرات ہونگے،طالبان سے مذاکرات کی نگرانی پارلیمانی سٹیئر نگ کمیٹی کریگی،کالعدم تحریک کے خلاف مقدمات واپس نہیں ہونگے،فاٹا کا انضمام واپس نہیں لیا جائیگا۔سیاسی جماعتوں نے بعض سیاسی عناصر کی جانب سے افواج پاکستان پر تنقیداور پروپیگنڈے کی بھی شدید مذمت کی اور ایسی کوششوں کو ملکرناکام بنانے پر اتفاق کیا۔پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں پارلیمنٹ میں موجود تحریک انصاف نے شرکت نہیں کی جبکہ بلوچ رہنماؤں نے کہا پہاڑوں پر جانیوالوں سے بھی مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ا ہے۔سیاسی جماذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا چھٹا ان کیمرہ اجلاس منگل کو وزیر اعظم شہبازشریف کی زیر صدارت منعقد ہوا۔جس میں سیاسی، عسکری اور پارلیمانی قیادت نے شرکت کی۔ اجلا س میں ملک کی مجموعی قومی سلامتی کی صورتحال سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ملک کی موجودہ صورتحال سے کمیٹی کو آگاہ کیا جبکہ عسکری قیادت کی طرف سے پارلیمانی کمیٹی کو سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کو اس تمام پس منظر سے باخبر کیاگیا جس میں بات چیت کا یہ سلسلہ شروع ہوا اور اب تک بات چیت کے ہونے والے ادوار پر بریفنگ دی گئی، ذرائع کے مطابق اجلاس کو بتایاگیا ہے کہ افغانستان کی حکومت کی سہولت کاری سے ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہیے۔مذاکراتی کمیٹی حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل ہے۔کمیٹی آئین پاکستان کے دائرے میں بات چیت کررہی ہے۔حتمی فیصلہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کے لئے فراہم کردہ راہنمائی اور اتفاق رائے سے کیاجائے گا، بریفنگ کے دوران ملک کو داخلی و خارجہ سطح پر لاحق خطرات سے آگاہ کیا گیا۔ ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کے تدارک کے لئے کئے گئے اقدامات بارے بتایا گیا اور پاکستان افغانستان سرحد پر انتظامی امور کے بارے میں آگاہ کیاگیا۔اجلاس کو آگاہ کیاگیا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن واستحکام کے لئے نہایت ذمہ دارانہ اور مثبت کردار ادا کیا ہے،پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کے لئے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا،اس امید کا اظہار کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا،ذرائع کے مطابق بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کے کسی حصے میں بھی منظم دہشت گردی کا کوئی ڈھانچہ باقی نہیں رہا۔ کورکمانڈر پشاور لیفٹننٹ جنرل فیض حمید اور ڈی جی آئی ایس آئی نے بریفنگ دی۔